Main Sakina Hoon Dekhiye Baba Haal Kya Ho Gaya Sakina Ka
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Joan Rizvi
میں سکینہ ہوں دیکھیے بابا حال کیا ہو گیا سکینہ کا
جب سے اٹھا ہے آپ کا سایہ حال کیا ہو گیا سکینہ کا
میرے رخساروں کی طرح اتنے زخمی رخسار جو تمہارے ہیں
میری طرح تمہیں بھی ظالموں نے ہائے کتنے طمانچے مارے ہیں
حال کیا ہو گیا تیرا بابا حال کیا ہو گیا سکینہ کا
جب ہوئے ذبح آپ مقتل میں مر گئی تھی میں جیتے جی اس دن
آپ کے بعد شام تک چل کر زندہ آ جانا کب یہ تھا ممکن
چل کے آیا ہے یہ میرا لاشہ حال کیا ہو گیا سکینہ کا
کیا بتاؤں تمہاری بیٹی کو شام میں شمر کیسے لایا ہے
کبھی گھوڑوں کے ساتھ دوڑایا اور کبھی ناقے سے گرایا ہے
چور زخموں سے ہے بدن سارا حال کیا ہو گیا سکینہ کا
جیسے بالوں سے سر تیرا پکڑا ویسے بالوں سے مجھ کو پکڑا گیا
ہاتھ رنگیں جو تیرے خون سے تھے انہی ہاتھوں سے مجھ کو جکڑا گیا
شمر ایسے مجھے ستاتا رہا حال کیا ہو گیا سکینہ کا
تنگ رسی میں تھا گلا میرا بولتی ہوں تو بولا جاتا نہیں
پیاس سے خشک تھیں رگیں پہلے اب گھٹن ہے کہ سانس آتا نہیں
ہے ابھی تک میرا گلا دکھتا حال کیا ہو گیا سکینہ کا
پشت پر نیل تازیانوں کے کیسے بابا تجھے دکھاؤں میں
اور شانوں پہ زخم نیزوں کے کتنے ہیں بابا کیا بتاؤں میں
ظالموں نے مجھے بہت مارا حال کیا ہو گیا سکینہ کا
زخمی رخساروں پر میرے جس دم پھوپھی اماں کے اشک گرتے ہیں
گود سے ان کی اٹھ کے دیکھتی ہوں رو کے سجاد سر کو پیٹتے ہیں
کہتی ہیں جب یہ زینب کبری حال کیا ہو گیا سکینہ کا
چپ ہوئی بیٹی ہائے جون و اسد باپ کے سر کو دکھ سناتے ہوئے
اٹھ کے بولو یہ رو کے کہتی تھی زخمی بیٹی کو ماں ہلاتے ہوئے
بھائی لاشہ اٹھا کے کہتا تھا حال کیا ہو گیا سکینہ کا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.