Mujh ko zindan ke andheron se nikalo baba
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mohsin Mir Ji
مجھ کو زنداں کے اندھیروں سے نکالو بابا
تھک گئی ہوں مجھے سینے پہ سلا لو بابا
جانتی ہوں کہ بدن آپ کا زخمی ہے مگر
زخم گہرے ہیں بہت درد زیادہ ہو اگر
یاعلی کہہ کے کلیجے سے لگا لو بابا
سنتی ہوں شمر لعیں ڈھونڈ رہا ہے مجھ کو
اس سے پہلے کہ وہ پھر مارے طمانچے مجھ کو
اپنی بانہوں میں سکینہ کو چھپا لو بابا
کان زخمی ہیں مرے نیل ہیں رخساروں پر
ظلم سہہ سہہ کے مری خم ہوئی جاتی ہے کمر
غش نہ آجائے کہیں مجھ کو سنبھالو بابا
چھن گئی سر سے ردا آپ نہ آئے لیکن
میرا دامن بھی جلا آپ نہ آئے لیکن
بھیا عابد کو تو دروں سے بچا لو بابا
بولتے کیوں نہیں کیا آپ خفا ہو مجھ سے
گر خفا ہو تو بتا دو میں مناؤں کیسے
حال دل اپنی سکینہ کو سنا لو بابا
رحم کھاتا نہیں کوئی وہ یتیمہ ہوں میں
عمر ہے چار برس اور ضعیفہ ہوں میں
اک نظر اپنی سکینہ پہ بھی ڈالو بابا
عرش ہلتا تھا خلیل اس کے مصائب سن کر
جب وہ کہتی تھی لہو روتا تھا شبیر کا سر
مجھ کو زنداں کے اندھیروں سے نکالو بابا
بس کہیں سے مری پھوپھیوں کی ردائیں لا دو
ہو سکے تو مرے بھائی کی دوائیں لا دو
یا تو اس قید سے ہم سب کو چھڑا لو بابا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.