Khoon Hum Bahatay Hain Zakhm Hum Sajatay Hain
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Mir Hasan Mir
خون ہم بہاتے ہیں زخم ہم سجاتے ہیں
یہ سلیقے ماتم کے اور کس کو آتے ہیں
روز برپا ہوتی ہیں محفلیں زمانے میں
ہم تو باغ جنت میں روز آتے جاتے ہیں
جا کے دیکھ لے دنیا آج بھی جلوسوں میں
ان کے سر نہیں جھکتے جو علم اٹھاتے ہیں
تم اگر کرو ماتم تم بھی سیکھ جاؤ گے
بخششوں کا دروازہ کیسے کھٹکھٹاتے ہیں
ذکر مرتضی کر کے ہم تو چہرے پڑھ پڑھ کر
زائچے بناتے ہیں ولدیت بتاتے ہیں
آپ کو بھی مل جائے دین کا علم لیکن
آپ کا بھروسہ کیا آپ بھاگ جاتے ہیں
جائیں چاند پر ہم کیوں ہم تو ان کے نوکر ہیں
چاند تارے خود جن کے در پہ آتے جاتے ہیں
شیخ جی سبب کیا ہے ہر رجب کی تیرہ کو
سب خوشی مناتے ہیں آپ بلبلاتے ہیں
ان کے سامنے سورج اک دیا سا لگتا ہے
نقش ماتم شہ کے ایسے جگمگاتے ہیں
صاحبان علم و فن عقلمند اے گوہر
سر جھکا کے اس در سے فائدے اٹھاتے ہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.