Bahr e Khushnoodi e Zahra Ho Sana e Abbas
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Hasan Mir
بحر خشنودی زہرا ہو ثنائے عباس
سرو طوبی سے بھی اعلی ہے لیوائے عباس
بس علم خلق ہوا ہے تو برائے عباس
کون سرتاج وفا کا ہے سوائے عباس
جب تک اس شیر کا اک نقش قدم باقی ہے
یوں سمجھئے کے وفاؤں کا بھرم باقی ہے
نزد گہوارائے عباس جو شبیر گئے
دیکھ کر چہرہ مولود ثنا کرنے لگے
اور جبیں دیکھ کے عباس کی پھر یوں بولے
کہہ دو یہ جا کے عبادت سے کے وہ آہ بھرے
اتباع اور اطاعت کا نظام آیا ہے
مذہب ضبط و شجاعت کا امام آیا ہے
دیکھا حیدر نے جو شبیر کا عباس سے پیار
مسکرا کر کہا بیٹے سے پدر تم پہ نثار
چھوٹے بھائی کا کوئی نام بھی رکھا زینھار
کی حسین ابن علی نے یہ علی سے گفتار
عوض توحید کا عکاس کہیں گے ان کو
بابا ہم آج سے عباس کہیں گے ان کو
کوئی عباس کے کردار کی کیا دے گا مثال
ان کی آنکھوں میں ہے قرآن محبت کا جمال
ہے خیال ان کا وہی جو ہے امامت کا خیال
ان کے کردار کی رفعت میں نہیں کوئی سوال
ایسی رفعت کے جہاں سرحد عصمت مل جائے
دو قدم آگے بڑھیں اور امامت مل جائے
یہ مودت کے گلستان کی بے مثل بہار
وہ چچا ہے جو بھتیجی کی اداؤں پہ نثار
آس بچوں کی بھی اور اہل حرم کا ہیں حصار
آج بھی فوج حسینی کے ہیں پرچم بردار
یہ علم چوم کے جنت کی ہوا پاؤ گے
اس میں تم دور سے خوشبوئے وفا پاؤ گے
سوچ کر ہاتھ لگانا یہ ہے غازی کا علم
قلب کو پاک بنانا یہ ہے غازی کا علم
ذہن کا رجس ہٹانا یہ ہے غازی کا علم
تب کہیں اس کو اٹھانا یہ ہے غازی کا علم
ورنہ کفار سے جب جنگ میں ٹکراؤ گے
تم بھی میداں میں علم پھینک کے بھاگ آؤ گے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.