Baghdad Ke Pul Par Kazim Ka Kis Ne Yeh Janaza Rakha Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Kazim (a.s) recited by Farhan Ali Waris
بغداد کے پل پر کاظم کا کس نے یہ جنازہ رکھا ہے
افسوس کہ مولا کا لاشہ زنجیر ستم میں جکڑا ہے
زندان تو تنگ ہوتے ہیں مگر اتنے بھی تنگ نہیں ہوتے
مولا تھے رکوع میں چودہ برس احساس یہ خون رلاتا ہے
پہلے تو لعیں نے زہر دیا پھر لاش کو تنہا چھوڑ دیا
رونے کے لئے اس لاشے پر بھائی نہ بہن نہ بیٹا ہے
اس قید ستم میں بھی مولا رہتے تھے مصلے پر ہر دم
بے جرم نمازی قتل ہوا رو رو کے مصلی کہتا ہے
ایسی بھی غریبی دنیا میں کیا لوگو کسی پر دیکھی ہے
افسوس جنازہ کاظم کا مزدوروں سے اٹھوایا ہے
پیوست بدن میں ہیں کڑیاں لوہار سے بولے یہ مولا
آہستہ کاٹ یہ زنجیریں لاشہ یہ صدائیں دیتا ہے
عیدیں اٹھائیس گزری ہیں بن آپ کے اے بابا میرے
اس عید پہ تم گھر آ جانا معصومہ قم کا نوحہ ہے
مظلوم میرے مولا تجھ پر اولاد بھی تیری رو نہ سکی
بغداد نہیں دو عالم میں اب ماتم تیرا ہوتا ہے
مظلومیء ابن جعفر کو کیا کوئی بیاں کر پائے گا
فرحان اور مظہر روتے ہیں ہر ایک زباں پر نوحہ ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.