Shehre aza lucknow
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Afzal Mirza
شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا
جس روز سے شہ کا ہوا
اعلان محرم کا کیا جس دن نکل کر چاند نے
اپنا رخ روشن دکھایا جب بدل کر چاند نے
اس دن سے ہے بدلا ہوا شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
کرنیں پڑی جس روز سے آ کر غمِ شبیر کی
یہ بات میری ہی طرح اوروں نے بھی تحریر کی
اس دن سے ہے چمکا ہوا ہے شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
جب سے غمِ شبیر نے تجھکو چنا اپنے لےء
کربوبلا والوں نے جب اپنا لیا اپنے لیےء
پہلے سے تو اچھا ہوا شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
دیکھا گیا جو شام میں اس غمزدہ منظر کے بعد
جو شام میں برپا ہوی اس مجلس سرور کے بعد
محکم عزا خانہ ہوا شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
ماتم یہاں شبیر کا جب سے کیا ہم لوگ نے
پرچم جری عباس کا جب سے سجا ہم لوگ نے
جب سے تیرا جلوہ ہوا شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
شہرت ملی عزت ملی تہزیب کی دولت ملی
منصب ملا منزل ملی معبود سے عظمت ملی
سرور کا یوں شیدا ہوا شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
مجلس ہوی ماتم ہوا جو بھی ہوا اچھا ہوا
اپنا لیا ہر ایک نے میرے وطن کا راستہ
محور یوں اس غم کا ہوا شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
شہر عزا جب سے بنا اس روز سے دنیا میں تو
ہم نے نہیں سب نے کہا اس روز سے دنیا میں تو
ہر آنکھ کا تارہ ہوا شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
روضے یہاں کے دیکھ کر اشکوں نے یہ میرے کہا
سرور کے غم خواروں کو یہ کہتے ہوے ہم نے سنا
کربل سے ہے ملتا ہوا شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
منظر یہاں کا کوئی بھی ہر گز بھول سکتا نہیں
تعریف کے الفاظ وہ دل میں چھپا سکتا نہیں
جس کا بھی ہے دیکھا ہوا شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
دو ماہ سے زید یہاں مہمان رہتے ہیں حسین
میرے لےء آباد ہے اپنوں سے کہتے ہیں حسین
ہے اس لےء نکھرا ہوا شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
دن بھر سر مقتل شہ مظلوم کو جو غم ملا
بعد زمینِ کربلا بعد شہ کربوبلا
اس غم کا پیمانہ ہوا شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
جس روز سے حصہ بنا سرور کی تو جاگیر کا
حاصل ہوا صدقہ تجھے جب سے غمِ شبیر کا
تو صاحب رتبہ ہوا شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
جب جس جگہ بھی تعزیہ شبیر کا رکھا گیا
جھولا سجا کر جس جگہ بے شیر کا رکھا گیا
چرچہ وہاں تیرا ہوا شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
ہر ایک صدی میں شام سے فرش عزا بچھتا رہا
پھر ماتم سرور یہاں ہوتا رہا بڑھتا رہا
ہے یہ میرا پرکھا ہوا شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
دنیا میں ایک بھارت ہے جو بھایا شہ مظلوم کو
اوروں سے تو اچھا نظر آیا شہ مظلوم کو
پتھر سے تب ہیرا ہوا شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
اک بار جو شبیر نے اپنا کہا یاور تو بس
شبیر کے انصار نے اپنا لیا یاور تو بس
اس ملک میں اعلیٰ ہوا شہرِ عزاے لکھنؤ
ہے سوگ میں ڈوبا ہوا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.