Zindan mein Sakina ko yaad aaya wo seena
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Rizvia Party
زنداں میں سکینہ کو یاد آیا وہ سینہ
جس سینے پہ سوتی تھی معصوم سکینہ
ہے موت کی خاموشی تاریکی یہ زنداں میں
کیا جرم کیا لوگو معصوم سی مہماں نے
کوئی اور تو معصومہ یوں قید ہوئی نہ
کر ترس ذرا ظالم بابا کو نہ روؤں گی
میں گود میں مادر کی آرام سے سوؤں گی
بے رحم لعینوں نے فریاد سنی نہ
ہر وقت چمکتا تھا کربل میں مدینے میں
تعویز کی مانند تھا شبیر کے سینے میں
گم ہو گیا وہ کیسے زنداں میں نگینہ
سجاد جو زنداں سے ہو قید ختم تیری
جا کہنا یہ صغری سے تم کو ہے قسم میری
میں دفن ہوں زنداں میں آباد مدینہ
رخسار میں نانا کو محشر میں دکھاؤں گی
روداد میں زنداں کی رو رو کے سناؤں گی
پابندی ہے رونے پہ کہتا ہے کمینہ
پھٹ جائے نہ غیرت سے سجاد جگر تیرا
میرے گھر کی یہ رونق ہے کہتا ہے پدر تیرا
یہ سوچ کے عابد کو کچھ ہوش رہی نہ
ہائے موت بھی حیراں تھی معصوم کی میت پہ
افسوس رہی کرتی احمد کی رعیت پہ
تھا موت کے چہرے پہ غیرت کا پسینہ
اے دشت اجل رک جا بیمار کو آنے دے
بابا کے لیے کوئی پیغام سنانے دے
شاید میری تربت پہ وہ آئے کبھی نہ
سردار سکینہ کو زنداں میں دفن کر کے
سجاد یہ کہتے تھے نہ کفن ملا مر کے
تاحشر رلائے گی تیری موت سکینہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.