Qaid Tanhai Mein Dum Ghutne Laga Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Ravi Road Party
قید تنہائی میں دم گھٹنے لگا ہے میرا آ کے سینے سے لگاؤ بابا
میں اندھیرے میں اکیلی ہی نہ مر جاؤں کہیں مجھ کو مرنے سے بچاؤ بابا
میں تیری یاد میں دن رات یوں تڑپتی ہوں جیسے پنجرے میں کوئی گھائل پڑا ہو پنچھی
موت کا خوف ہے سناٹا ہے ویرانی ہے میری امداد کو آؤ بابا
مجھ کو عادت ہے تیرے سینے پہ سر رکھنے کی چین کی نیند بھلا کیسے زمیں پر آئے
قید خانے میں تو پڑتی ہے بلا کی گرمی اپنی گودی میں سلاؤ بابا
میرے دادا نے رہا کتنے کیئے تھے قیدی اس کی پوتی ہوں مگر قید میں مجبور ہوں میں
نام لے کر تیرا رونے نہیں دیتا ظالم اب میری قید چھڑاؤ بابا
پھوپھیوں کے بھی بندھے ہاتھ پس گردن ہیں وہ بھلا کیسے میری آنکھوں سے آنسو پونچھیں
بے سہارا ہوں یتیمی کا کڑا موسم ہے اپنی صورت تو دکھاؤ بابا
یاد بے شیر کی آتی ہے مجھے شام و سحر اس کا جلتا ہوا جھولا بھی نظر آتا ہے
مجھے مل جاؤ میرے مرنے سے پہلے آکر ساتھ اکبر کو بھی لاؤ بابا
نوک نیزہ پہ جو کرتے تھے تلاوت مولا جانے کیا سوچ کے اختر یہ سکینہ نے کہا
شام کے لوگ ہیں بہرے یہ سمجھ سکتے نہیں ان کو قرآں نہ سناؤ بابا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.