Faqeer Ki Sada Hussain Hai
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Mir Hasan Mir
جو بندگی کا ناز ہے حقیقت نماز ہے وہ بندہ خدا حسین ہے
نظر ہے خیمہ گاہ پر زمین و آسمان کی
سکوت میں ہے زندگی گھڑی ہے امتحان کی
ہے سانس موت کی رکی لرز رہی ہے روشنی
دیا بجھا رہا حسین
اے جانے والے رک ذرا اداس کیوں ہے اس قدر
قلم ہے اس کے ہاتھ میں حسین سے تو بات کر
یہ لوح پھر بنائے گا تجھے پسر دلائے گا
خدا کا لاڈلا حسین ہے
سموں سے ذوالجناح کے یہ عرش کیوں لپٹ گیا
فلک پہ مہر رک گیا فرات پیچھے ہٹ گیا
ہے زلزلہ زمین کو ابھی تو آستین کو
الٹنے جا رہا حسین
فلک پہ لکھے جاتے تھے نصیب کل کی بات تھی
کریم کے ظہور سے روش یہ اب بدل گئی
یہیں پہ ہو گا سب رقم اٹھا کے لوح اور قلم
زمیں پہ آگیا حسین ہے
امیر کو سلام کر کسی نے جب یہ دی صدا
پکارا مسلم علی میں قید ہوں تو کیا ہوا
سلام کیوں کروں اسے پتا نہیں ہے کیا تجھے
امیر بس میرا حسین
حسین نے یہ تربیت بتول سے ہی پائی تھی
بچا لی اپنے خون سے ولایت علی ولی
گلی گلی نگر نگر علی علی ہے اب مگر
علی کے لب پہ یاحسین ہے
عجب سفر ہے عشق کا سکون آبلوں میں ہے
نجف سے کربلا تلک یہ شور قافلوں میں ہے
چلو حسینیو چلو ذرا سا تیز اور چلو
تمہیں بلا رہا حسین
وہ اپنے دوست کے لیے قضا کا سر اتار دے
مجال کیا ہے موت کی حبیب کو جو مار دے
حیات موت لائے گی پلٹ کے اب تو آئے گی
زبان دے چکا حسین ہے
تکلم حسینیت یہ اس کا انتقام ہے
بتا رہی ہے یہ زمیں یزیدیت کہیں نہیں
علی کی لاڈلی سے اب عزا کا سب نظام ہے
جگہ جگہ پہ یاحسین ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.