Sakina Zindan Ke Andhere Mein Baba Ko Dhondti Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Sibtain Haider
سکینہ زنداں کے اندھیرے میں بابا کو ڈھونڈتی ہے
بابا کا سینہ نہیں ملتا اب خاک پہ وہ سوتی ہے
ناقے پر لایا شام تلک سینے پہ سونے والی کو
بیٹھی نہیں جاتی تھی اس سے رسیوں سے تھا باندھا بچی کو
کر کر کے یاد یہی زینب رو رو کے غش کھاتی ہے
اس چار برس کی بچی کو امت نے اتنا رلایا ہے
جاری ہے لہو کانوں سے اور چہرے پہ طمانچہ مارا ہے
یہ کس کو پکارے بحر مدد بابا نہ چچا غازی ہے
اکثر وہ پھوپھی سے کہتی ہے کیا ہم نہیں واپس جائیں گے
کیا دیکھنے حال سکینہ کا عمو اور بابا نہ آئیں گے
کچھ کہہ نہیں پاتی ہے زینب بس سن کے یہی روتی ہے
دادی کی طرح پوتی نے بھی ظالم سے طمانچہ کھایا ہے
رونے نہ دیا بابا پر بھی یہ کرب و بلا کی زہرا ہے
دونوں کو ستم سے امت کے غربت میں قضا آئی ہے
کہتی تھی یہ زینب رو رو کر اے شاہ عرب کی شہزادی
بس اس لیے تیری اور میری دشمن یہ دنیا ساری ہوئی
میں زہرا کی بیٹی ہوں اور تو زہرا کی پوتی ہے
علوی تھا حرم میں حشر بپا زنداں میں جب اس کو آئی قضا
زخموں سے بھری اس میت کو ہائے غسل و کفن بھی نہ مل پایا
اک اور قیامت عابد پر بازار کے بعد یہی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.