Yeh Azadar Ke Aansoo
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Wajhi Hasan Zaidi
کیا بتاؤں میں زمانے کو فضیلت ان کی
چند قطرے ہیں مگر خوب ہے عزت ان کی
بحر عالم سے کہیں زیادہ ہے وسعت ان کی
مجلس شاہ میں بہنا ہے عبادت ان کی
چشم پر درد کی توقیر بڑھا دیتے ہیں
رونق مجلس شبیر بڑھا دیتے ہیں
آج کہتا ہے زمانہ جو انہیں اشک عزا
یہ لقب مجلس سرور کے سبب ان کو ملا
ساری دنیا میں کوئی مثل نہیں ہے ان کا
نہ کسی اور نے پایا کبھی ایسا رتبہ
پرسہ داری کی روایت کا عنوان بنے
ہاں عزاداری شبیر کی پہچان بنے
ہے عزادار کی آنکھوں سے تعلق ان کا
منتظر رہتے ہیں ہر وقت برائے پرسہ
قدرتا پایا ہے ان سب نے سلیقہ ایسا
نام شبیر سنا آنکھ سے اخراج کیا
ضیغم ساقی کوثر کہ پرستار ہیں یہ
ان کو نسبت ہے وفاؤں سے وفادار ہیں یہ
ان گنت وصف ہیں ان کے غم سرور کی قسم
ان کو اللہ نے بخشا ہے عجب جاہ و حشم
حضرت جعفر صادق سے روایت ہے رقم
جو غم شہ میں بہائے گا وہ جائے گا ارم
اپنی تقدیس کا اعجاز دکھا سکتے ہیں
آگ اک پل میں جہنم کی بجھا سکتے ہیں
یہ وہ آنسو ہیں جو ہر ایک کی قسمت میں نہیں
صاحب دولت و قوت کی اطاعت میں نہیں
یہ نگینے کسی تاجر کی تجارت میں نہیں
جز عزادار کسی اور کی بیعت میں نہیں
آج بھی حر کی طرح برسر پیکار ہیں یہ
مجلس شاہ سے منسوب ہیں مختار ہیں یہ
جب بھی ہوتا ہے سر مجلس سرور گریہ
اشک آنکھوں سے بہاتے ہیں سبھی اہل عزا
چن کے لے جاتی ہیں رومال میں اپنے زہرا
اور یاسر یہی کہتیں ہیں بصد آہ و بکا
یہ وہ آنسو ہیں نہیں ہے کوئی جن کا ہمسر
زخم شبیر پہ لگتے ہیں یہ مرہم بن کر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.