Tu Naujawan Hai Akbar Lasha Uthaon Kaisay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Naujawanan e Bouturab Azizabad Karachi
تو نوجواں ہے اکبر لاشہ اٹھاؤں کیسے
زینب کو تیرے مرنے کا میں بتاؤں کیسے
آئی ہے زہرا رن میں روتے ہیں ساتھ حیدر
سینے پہ ہاتھ رکھے کے یہ سوچتے ہیں اکبر
سینے کی برچھی اللہ سب کو دکھاؤں کیسے
چلتے ہیں کہنیوں پر شبیر سوچتے ہیں
غازی کو یاد کر کے دل میں ہی رو رہے ہیں
بیٹے کی لاش پر میں اس طرح جاؤں کیسے
روتی تھیں ام لیلی زینب کو دیکھتی تھیں
لاشے کو دیکھتی تھیں اور بس یہ سوچتی تھیں
بیٹے کی لاش کو میں بیٹا بلاؤں کیسے
مقتل میں آ کے قاصد اکبر کو ڈھونڈتا ہے
غربت کو دیکھ میری بس روتا جا رہا ہے
اکبر کی لاش ہے یہ اس کو بتاؤں کیسے
ٹوٹی کمر سنبھالے شبیر چل پڑا ہے
نانا کی شکل والا بیٹا جو مر گیا ہے
کڑیل جوان لاشہ تنہا اٹھاؤں کیسے
ہنستا تھا بابا ظالم جب نیزہ توڑتا تھا
صابر ہے تیرا بابا مجھ سے یہ کہہ رہا تھا
ٹکڑے جگر کے تم کو اب میں دکھاؤں کیسے
شبیر مثل زہرا پہلو پہ ہاتھ رکھ کے
رو کر حنین اپنی بیٹی سے کہہ رہے تھے
منظر اب اس سے اگلا تجھ کو دکھاؤں کیسے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.