Shabbir ne humko
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Shadman Raza
دنیا میں جو بیداری کی آواز ہے ہر جا
ہے بنت پیمبر تیرے شبیر کا صدقہ
اے فاطمہ زہرا تیرے شبیر کے جیسا
تھا کوی نہیں ہے بھی نہیں اور نہ ہوگا
شبیر نے ہم کو سکھایا ہے
حق بات پہ سر بھی کٹا دینا
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
چاہے یہ جاں چلی جاے
گھر بار اپنا لٹا دینا
پیغام حسینی پھیلایا
یہ کربوبلا نے سمجھایا
جب ظلمت ہر سوں چھانے لگے
تم خوں سے چراغ جلا دینا
چاہے یہ جاں چلی جاے
گھر بار اپنا لٹا دینا
شبیر نے ہم کو سکھایا ہے
حق بات پہ سر بھی کٹا دینا
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
ماتم کا سفر جو جاری ہے
در اصل یہی بیداری ہے
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
تم لوگ صداے ماتم سے
سوے ذہنوں کو جگا دینا
چاہے یہ جاں چلی جاے
گھر بار اپنا لٹا دینا
شبیر نے ہم کو سکھایا ہے
حق بات پہ سر بھی کٹا دینا
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
سر جب بھی اٹھاے کفر کہیں
حق بات بتانا تم بھی وہیں
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
اور نقوت باطل کو آگے
بڑھ کر مٹی میں ملا دینا
چاہے یہ جاں چلی جاے
گھر بار اپنا لٹا دینا
شبیر نے ہم کو سکھایا ہے
حق بات پہ سر بھی کٹا دینا
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
ہے یہ بھی فرائض میں شامل
اور ہے یہ عبادت بھی کامل
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
ٹکڑوں میں بٹی اس ملت میں
وحدت کے پھول کھلا دینا
چاہے یہ جاں چلی جاے
گھر بار اپنا لٹا دینا
شبیر نے ہم کو سکھایا ہے
حق بات پہ سر بھی کٹا دینا
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
غازی کی عنایت مل جاے
جب اذن زیارت مل جاے
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
تم کربوبلا کے رستے پر
اپنے قدموں کو بڑھا دینا
چاہے یہ جاں چلی جاے
گھر بار اپنا لٹا دینا
شبیر نے ہم کو سکھایا ہے
حق بات پہ سر بھی کٹا دینا
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
مہدی کے غلاموں یاد رکھو
جینے کا یہی اک مقصد ہو
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
اس روے زمیں سے باطل کا
ہر نام و نشان مٹا دینا
چاہے یہ جاں چلی جاے
گھر بار اپنا لٹا دینا
شبیر نے ہم کو سکھایا ہے
حق بات پہ سر بھی کٹا دینا
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
اے أہل عزا یہ یاد رہے
غازی کے علم کے ساے تلے
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
اطفال کو اپنے لے جا کر
پیغام وفا کا سنا دینا
چاہے یہ جاں چلی جاے
گھر بار اپنا لٹا دینا
شبیر نے ہم کو سکھایا ہے
حق بات پہ سر بھی کٹا دینا
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
جب ششماہ یاد آجاے
اور پیاس بھی اسکی تڑپاے
تم اپنے گھروں میں شربت پر
اصغر کی نزر دلا دینا
چاہے یہ جاں چلی جاے
گھر بار اپنا لٹا دینا
شبیر نے ہم کو سکھایا ہے
حق بات پہ سر بھی کٹا دینا
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
زینب کو رلاتا ہے اب بھی
غم اور بڑھاتا ہے اب بھی
وہ نیزہ کھا کر اکبر کا
رن سے بابا کو صدا دینا
چاہے یہ جاں چلی جاے
گھر بار اپنا لٹا دینا
شبیر نے ہم کو سکھایا ہے
حق بات پہ سر بھی کٹا دینا
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
ہم کو ہے سکھایا ماتم بھی
اور عشقِ علی کی دولت بھی
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
اظہار اور شادماں لازم ہے
اپنی ماؤں کو دعا دینا
چاہے یہ جاں چلی جاے
گھر بار اپنا لٹا دینا
شبیر نے ہم کو سکھایا ہے
حق بات پہ سر بھی کٹا دینا
لبیک یا حسین لبیک یا حسین
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.