Aaye Jab Shaam Ka Naam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Syed Zair Naqvi
خون روتا ہے بڑا آئے جب شام کا نام
یاد کرتا ہے بڑا
جو پھرایا ننگے سر پھوپھیوں کو سر عام
یاد آتا ہے اسے بھرے درباروں میں
سامنے زینب کے
بانٹنا فاسق کا قاتلوں کو وہ انعام
بھولتا کیسے بھلا حال درباروں کا
اور بازاروں کا
رو کے کہتا تھا یہی شام ہائے شام
غش سے جب ہوش کیا کربلا کے اندر
کیسا دیکھا منظر
ننگے سر پھوپھیاں تھیں جل رہے تھے سب خیام
ساتھ عابد کے بندھا تھا گلا باقر کا
جھک کے وہ چلتا رہا
تھا وہ مجبور بڑا کیسے کرتا وہ قیام
ساتھ ماؤں کو لیے جب مدینہ پہنچا
ہر طرف شور اٹھا
دیر تک روتا رہا کر کے صغری کو سلام
جو بھی دیں پرسہ یہاں کربلا والوں کو
لا الہ والوں کو
ان کے رونے کے لیے کافی ہے شام کا نام
نوحہ زائر نے لکھا حضرت عابد کا
رو پڑے ارض و سما
ساتھ پھوپھیوں کو لیے جس نے دیکھی ہائے شام
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.