Aisa to koi sher kahoon main hayat main
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Wajhi Hasan Zaidi
ایسا تو کوئی شعر کہوں میں حیات میں
جو لکھ سکوں میں اپنی بیاض نجات میں
یہ کس نے کہہ دیا کہ میں تنہا لحد میں ہوں
خوشبو غم حسین کی لایا ہوں ساتھ میں
اے لشکر سپاہ یزیدی سنبھل کے آ
زنجیر ماتمی ہے ابھی میرے ہاتھ میں
ٹھنڈا نہ کرتے شیر کے غصے کو گر حسین
پانی نہ ملتا راکھ ہی ملتی فرات میں
باغ فدک کے جرم میں بخشے نہ جائیں گے
شامل تھے جتنے لوگ بھی اس واردات میں
تبدیل کر سکو گے نہ تاریخ کربلا
جتنی بھی ہیر پھیر کرو واقعات میں
ماتم کے داغ سینے پہ روشن ہیں اس طرح
جیسے فلک پہ چاند چمکتا ہو رات میں
جو مستحب سمجھتا ہے ذکر غم حسین
سمجھے نہ وہ نماز کو بھی واجبات میں
جو روکتا ہے مجلس و ماتم کوئی بھی ہو
ابلیس بن کے بیٹھا ہے راہ نجات میں
اک شب کے فاصلے سے بچا لے گئے حسین
دوزخ کی آگ بیٹھی رہی حر کی گھات میں
انصر غلام شاہ شہیداں ازل سے ہوں
لغزش کہاں سے آئے گی پائے ثبات میں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.