Kya dhoond rahi hai jangal mein Sakina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mesum Abbas
کیا ڈھونڈ رہی ہے جنگل میں سکینہ
عباس کے بازو یا بابا کا سینہ
کہتی تھی کہ اصغر کو لے آؤ میرے بابا
سونا نظر آتا ہے بھائی کا میرے جھولا
اصغر کے بغیر اب مجھ کو نہیں جینا
کانوں سے چھنے گوہر اور آگ تھی دامن میں
گھبرائی ہوئی بچی یہ کہتی رہی رن میں
ہے کوئی جو مجھ کو پہنچا دے مدینہ
مشکل میں گھری ہائے اولاد نبی کیسی
اس دشت مصیبت میں ہے تشنہ لبی کیسی
آیا نہیں اب تک سقائے سکینہ
زد پر ہے مظالم کی یہ پھول سی معصومہ
مقتل سے کہاں جائے شبیر کی مظلومہ
وہ دروں کا کھانا وہ اشک کا پینا
یہ شام کے زنداں میں دیواروں کو تکتی ہے
کیا سوچ کے یہ جانے دن رات سسکتی ہے
بچھڑی ہے چچا سے جب سے یہ حزینہ
کہتی تھی سدھارے ہیں بھائی جو میرے پیاسے
جب تک نہیں لوٹیں گے عمو میرے دریا سے
میں نے اے پھوپھی جاں پانی نہیں پینا
پہنچے جو شہ والا بیٹے کی صدا سن کر
دیکھا کے رگڑتے ہیں ایڑھی کو جواں اکبر
نیزے کی انی ہے اور بیٹے کا سینہ
وہ وقت جدائی وہ اولاد کی مجبوری
سرور سے سکینہ کی اب تک نہ مٹی دوری
مقتل میں انگوٹھی ہے زنداں میں نگینہ
مصروف عبادت ہو تم شام و سحر میثم
کہتے ہیں یہی رو کے دن رات ظفر میثم
اے نذر سکینہ اشکوں کا خزینہ
احمد کے نواسے کو مارا ہے محرم میں
چالیس برس روئے سجاد اسی غم میں
تاریخ پکاری ہے غم کا مہینہ
ہونگے سر محشر بھی اونچے یوں ہی سر اپنے
مرقد کو اجالوں سے بھر دینگے ظفر اپنے
رکھتے ہیں لحد میں ہم اشکوں کا خزینہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.