Salam bar moharam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Mesum Abbas
یا أبا عبداللّٰہ
حسین حسین حسین حسین
حسینا
شب اول محرم
میری آنکھوں میں نمی
قربان تیرے سوگ پہ
میرے مولا ہر خوشی
میری سانسوں میں عزا
عزا میری دھڑکن میں بکا
تیرا غم غمِ کربلا
کہہ رہی ہے یہ چشم نم
سلام بر محرم
حسینا۔۔۔
تمہیں تو پتہ ہے مولا
گنہگار ہوں میں مولا
ہر ایک وقت ہر ایک لمحہ
خطاؤں میں ہوں میں ڈوبا
مگر جب محرم آیا
تیری سمت میں لوٹ آیا
خطرناک ہوں میں بیشک
مگر ہوں میں بندہ تیرا
یہ سب کچھ تیری ہی عطا ہے
ہمیں یہ مہینہ ملا ہے
فقط ایک آنسوں پہ ہی
مکان خلد میں پایا ہے
تیرا جو غم ملا نہ کوئی غم رہا
اے شاہ کربلا دل نے دی یہ صدا
سلام بر ماہ حسینی
سلام بر محرم
حسینا۔۔۔
جلوس عزا حسینی
جہاں میں بپا ہے پیہم
علمدار کربوبلا کا
قیادت ہے کرتا پرچم
مخالف تھا سارا عالم
رکے نہ عزا اور ماتم
ہے چودہ صدیاں لیکن
ہے جاری رہا یہ محرم
عزادار شہ کا جزبہ
یہ سارے جہاں نے دیکھا
کہ کمسن سے بچوں نے بھی
کفن کو سروں پہ باندھا
عاشق کربلا سہتے رہے جفا
جانیں ہوی فدا رک نہ سکی عزا
سلام بر عزادار
سلام بر محرم
حسینا۔۔۔
محرم کی آمد ہے اور
یہ نظریں جدھر جاتی ہیں
سجے ہیں عزا خانے اور
سبیلیں نظر آتی ہیں
لباس سیاہ بچوں کو
یہ ماییں جو پہناتی ہے
عزا کے سلیقے یہی
زمانے کو سمجھاتی ہے
علم مشک اور کلاوے
یا ہو ہتھکڑی اور بیڑی
یہ سب عشق کی ہے دلیلیں
نہیں رسم سمجھیں کوی
سرمایۂ عزا سمجھو تو با خدا
عشق کی ابتداء عشق کی انتہا
سلام بر عشق حسین
سلام بر محرم
حسینا۔۔۔
کرو یاد اکسٹھ ہجری
محرم کا وہ عاشورہ
محمد کے کنبے پر جو
قیامت ہوی تھی برپا
مصلے پہ تیروں کے تھا
شہ کربلا کا لاشہ
بکا کر رہی تھی رن میں
ارے بال کھولے زہرا
یہ غم کربلا کا غم ہے
بپا اس لےء ماتم ہے
نبی و علی زہرا کی
ہوی آنکھ اس میں نم ہے
قتلِ شہ امم کیسا وا ستم
تا حشر بھی یہ غم نہ ہو سکے گا کم
سلام بر غمِ کربلا
سلام بر محرم
حسینا۔۔۔
محرم کا ایسا اثر ہے
ذہن میں وہی منظر ہے
ہے بہتا ہوا ایک دریا
تو پیاسا کوئی لشکر ہے
کہ بکھری ہوئی لاشیں ہے
تو چھنتی ہوی چادر ہے
جلا فاطمہ کا گھر ہے
جہاں میں بپا محشر ہے
کہیں پہ کٹے بازو ہیں
لہو میں کہیں گیسو ہیں
یہ اجڑے ہوے پردیسی
ہر ایک آنکھ میں آنسوں ہے
کیسی ہوی جفا زہرا کا گھر لٹا
اسی کی یاد میں جاری ہے سلسلہ
سلام بر آل سیدہ
سلام بر محرم
حسینا۔۔۔
جو مخدومہء عالم نے
دعا کو ہے ہاتھ اٹھایا
عزا و بکا کی خاطر
خدا نے ہمیں ہے بنایا
ہے سلمان و میثم ہم پہ
بن سیدہ کا سایہ
ہمیں ناز ہے کہ ہم نے
انہیں کا تو صدقہ کھایا
بہت فخر ہم کو اس پر
کہ ہم ہے غلام حیدر
ہے بس زندگی کا مقصد
ہماری عزاے سرور
شاعر و نوحہ خوان
جب تک رہے گی جان
دیں گے اس طرح نوحوں کی ہم اذان
سلام بر دعاے زہرا
سلام بر محرم
حسینا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.