Sada rahega hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Sachay Bhai
سدا رہے گا حُسین کا غم
یہ شورِ گریہ یہ شورِ ماتم
سنی ہوئی داستانِ پیہم
اک آہ بن کر اُبھر رہی ہے
وہ کربلا کی صدائے پُرغم
سدا رہے گا ۔۔۔
اُٹھے جو ظلم و ستم کے جھونکے
سوال یہ تھا کہ کون روکے
حُسین ابنِ علی کے در پر
جمی ہوئی تھی نگاہِ عالم
سدا رہے گا ۔۔۔
بڑھا جو حد سے غرورِ باطل
تڑپ اُٹھا پھر حُسین کا دل
چلا حرم کو وطن سے لے کر
ردائے زینب بنا کہ پرچم
سدا رہے گا ۔۔۔
اصولِ فکر و عمل کو موڑا
یزیدیت کے فسوں کو توڑا
ہر ایک دیوارِ ظلم ڈھا کر
بنا گیا دیں کا قصرِ محکم
سدا رہے گا ۔۔۔
جفاؤں کا دل ہلا کے اُٹھا
جو قبرِ اصغر بنا کے اُٹھا
جواں کی میت پہ مُسکرا کر
بدل گیا فکرِ نسلِ آدم
سدا رہے گا ۔۔۔
سنبھل کے ٹوکے ہمیں زمانہ
گزر گیا دورِ تازیانہ
بغور سُن لیں جہان والے
اب اس علم کے ہیں پاسبان ہم
سدا رہے گا ۔۔۔
نہ رُک سکی ہے نہ رُک سکے گی
عزائے مظلوم کیا رکےگی
دلوں کی ہر ایک دھڑکنوں سے
اُبھر رہی ہے صدائے ماتم
سدا رہے گا ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.