Aaj beemar ki zanjeer hilaye na koi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Syed Kazim Hussain Zaidi
آج بیمار کی زنجیر ہلائے نہ کوئی
پائے سجاد میں چھالے ہیں چلائے نہ کوئی
آبلے رستے ہیں پاؤں سے لہو بہتا ہے
قافلہ پل کو بھی رک جائے سکوں رہتا ہے
لمحے کو بیٹھا ہے بیمار اٹھائے نہ کوئی
یہ دعا کرتے تھے سجاد کے درباروں میں
بے ردا بہنیں میرے ساتھ ہیں بازاروں میں
جاننے والا میرے سامنے آئے نہ کوئی
کہتا تھا شمر کے بیمار کو مجبور رکھو
ہے میرا حکم کے پانی کو بہت دور رکھو
ایک قطرہ بھی انہیں آب پلائے نہ کوئی
بولے سجاد میرا خون بہا دے سارا
شمر تو کردے میرے جسم کو پارا پارا
ہاں مگر ہاتھ سکینہ کو لگائے نہ کوئی
ہاتھ جوڑے ہوئے کہتی تھی سکینہ سب سے
زخمی سجاد کو لمحے کے لئے چین ملے
سویا ہے بھائی میرا شور مچائے نہ کوئی
تیز چلنے کا جو کہتے ہیں ستم ہوتا ہے
طوق ہلتا ہے تو گردن سے لہو بہتا ہے
بیڑیاں زخم بناتی ہیں چلائے نہ کوئی
کاظم و مرزا جو سویا نہ تھا اک پل کے لئے
اس کو سوتے ہوئے دیکھا تو حرم کہنے لگے
چند ساعت کو یہ سویا ہے جگائے نہ کوئی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.