Hasan ne nana ke roza pe rote rote kaha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mirza Sajjad Mumtaz
حسن نے نانا کے روضہ پہ روتے روتے کہا
کہ میرے سامنے میری ہی ماں کو مارا گیا
شقی نے راہ میں اس پر یہ ظلم ڈھایا ہے
بہت ہی زور سے اس کو طمانچہ مارا ہے
بچانے والا مگر کوئی بھی نہیں آیا
سلگتا دروازہ اماں پہ گرتے دیکھا ہے
ہاں اس کو میں نے طمانچے بھی کھاتے دیکھا ہے
کلیجہ دکھتا ہے اماں کو میں بچا نہ سکا
خمیدہ پشت ہے اس کی عصا ہے ہاتھوں میں
اٹھارہ سال میں آئی سفیدی بالوں میں
ضعیفہ ہوگئی غم سہتے سہتے ماں زہرا
سہارا لیتی ہے دیواروں کا جو چلتی ہے
شکستہ پہلو سے اماں کی جاں نکلتی ہے
نماز بیٹھ کے پڑھتی ہے نانا جاں زہرا
ہیں ٹوٹی پسلیاں دروازہ وزنی گرنے سے
ہوا ہے بازو بھی شل اس پہ درے کھانے سے
بہت ہی مارا گیا تیری بیٹی کو نانا
شکستہ پہلو لئے وہ گئی سر دربار
دیا نہ حق تیری بیٹی کو جس کی تھی حقدار
گواہ رد کئے تیری سند کو پھاڑ دیا
اے نانا ماں پہ میرے سامنے ہوا جو ستم
ستم وہ بھول نہیں پاؤں گا میں مرتے دم
وہ یاد کر کے میں روتا ہوں رات دن نانا
حسن نہ گزرا اے سجاد و محتشم وہاں سے
جہاں پہ اماں نے اس کی طمانچے کھائے تھے
حسن سا کوئی بھی مظلوم دوسرا نہ ہوا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.