Musalla khoon mein tar hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Syed Abbas Raza Naqvi
مصلی خون میں تر ہے علی مولا ہیں سجدے میں
ہے یہ انیسویں رمضاں قیامت جیسی کوفے میں
سنا زینب نے جب بابا ہوئے زخمی مصلے پہ
تو بولیں بابا کو لے آؤ اب گھر میرے جلدی سے
وگرنہ میں نہ بیٹھونگی ذرا بھی اپنے حجرے میں
بن ملجم کی مولا پہ چلی تلوار ہے جس دم
لحد میں تھرتھرائی ہیں جناب فاطمہ اس دم
اور ان کے ساتھ روئیں ہیں محمد اپنے روضے میں
بقا کرتے ہوئے شبیر یہ نانا سے ہیں بولے
ذرا دیکھو مسلماں نے ہمیں اس عید سے پہلے
یتیمی کا بڑا صدمہ دیا ہے ہم کو تحفے میں
علی کے بعد اولاد علی کے حال ہیں ایسے
یہ اکثر راتوں میں اٹھ کر ہیں اک دوجے کو یہ کہتے
مجھے بابا نظر آئے لہو آلود گرتے میں
جو آیا عید ہے ملنے اسے فضہ نے یہ بولا
کہاں کی عید اور خوشیاں یہاں پرسہ ہی بس ہو گا
علی کے پھول سے بچے ہیں اس طرح کے صدمے میں
جو زخمی بابا کو دیکھا تڑپ کے دل یہی بولا
ہمیں نہ چھوڑ کے جانا پڑھا عباس نے نوحہ
اسد ہے گریہء زینب مسلسل میرے نوحے میں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.