Mere beemar maula tere jism se khoon rasta raha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Syed Kazim Hussain Zaidi
میرے بیمار مولا تیرے جسم سے خون رستا رہا
زخم پھٹتے رہے تیرا زخمی گلا خوں اگلتا رہا
جب سکینہ کے کانوں سے گوہر چھنے آپ کے سامنے
اور طمانچوں سے رخسار زخمی ہوئے آپ کے سامنے
آنکھیں پتھرا گئیں اشک خوں بن گئے خون بہتا رہا
بے ردا دیکھ کر بنت زہرا کا سر، سر وہیں جھک گیا
پھر صدا دی یہ عباس کو اے چچا سب یہ کیسے ہوا
ایک لاشہ نہر پر یہ سن کر صدا بس تڑپتا رہا
سر کھلے بہنوں کے سر کھلی بیبیاں دل پریشان تھا
مجمع عام تھا بے ردا آیتیں زخمی قرآن تھا
کوئی پڑھتے ہوئے انما، ھل اتی خون روتا رہا
جب پھوپھی کے کھلے سر پے آنکھیں رکیں خون سے بھر گئیں
پوچھا سجاد نے کے ردا کیا ہوئی بیبیاں رو پڑیں
کپکپانے لگا دیکھ کر ننگے سر جیسے مر ہی گیا
کیسے بازار سے میں گزر جاؤں گا میں تو مر جاؤں گا
بیبیاں ساتھ ہیں کیسے سہہ پاؤں گا میں تو مر جاؤں گا
بولا بیمار بس قبل بازار سے مجھ کو آئے قضا
طوق گردن میں تھا پاؤں میں بیڑیاں ہاتھ میں ہتھکڑی
اس پے درے ستمگر کے بیمار پر اور نوحہ گری
پڑھ کے نادعلی ظلم سہتا رہا صبر کرتا رہا
گرم کتنی زمین ستمگار تھی پوچھو بیمار سے
خوں اگلتے رہے آبلوں سے بھرے پاؤں سجاد کے
شکر کرتا رہا خون روتا رہا اور چلتا رہا
صغری تجھ سے میں اکبر ملا نہ سکا اس کو لا نہ سکا
میں نے خط پڑھ لیا پر تیرے بھائی کو خط سنا نہ سکا
کہہ کے سجاد، صغری سے غش ہو گیا اور وہیں گر گیا
شور اغیار میں اور بازار میں بیبیاں آگئیں
شر کے دربار میں بزم مئے خار میں بیبیاں آگئیں
بس اے مرزا و کاظم یوں بیمار کا اشک رک نہ سکا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.