Yeh mazloomiat thi suno Fatima ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Kashan Zaidi
یہ مظلومیت تھی سنو فاطمہ کی
بیاں کر رہی ہیں مدینے کی گلیاں
مدینے میں پہلے نہ دیکھا یہ منظر
یہ حملہ ہے پہلا خدا کی کساء پر
خدا جانے سینوں میں شاید تھے پتھر
گراتے تھے زہرا پہ جلتا ہوا در
بچانے نہ آیا مدینے میں کوئی
بیاں کر رہی ہیں مدینے کی گلیاں
ہاں کچھ لوگ ہاتھوں میں تھے آگ تھامے
جو بیت علی کی طرف بڑھ رہے تھے
وہ در جس پہ سلمان کرتا تھا سجدے
جلاتے تھے اس در کو وہ لوگ ہنس کے
تھی گھر میں اکیلی محمد کی بیٹی
بیاں کر رہی ہیں مدینے کی گلیاں
یہ آل نبی پر تھا کیسا زمانہ
نہ امت نے احمد کا فرمان مانا
وہ درباریوں کا چلے گھر پہ آنا
ہدف جن کا حیدر کو قیدی بنانا
ہاں باندھی تھی حیدر کی گردن میں رسی
بیاں کر رہی ہیں مدینے کی گلیاں
یوں بعد پیمبر ہے بدلہ مدینہ
انھیں تنگ کرتا تھا بی بی کا رونا
مدینے سے باہر بنا ایک حجرہ
جہاں جا کے کرتی رہیں آپ گریہ
ادا اجر احمد یوں کرتے تھے امی
بیاں کر رہی ہیں مدینے کی گلیاں
ہاں کاشان و باقر سناؤ یہ نوحہ
غم قلب زہرا وہ پہلو شکستہ
یہ ثابت ہے بی بی کا ناراض ہونا
اٹھاتے ہیں حیدر یوں شب میں جنازہ
سر قبر زہرا علی کی دہائی
بیاں کر رہی ہیں مدینے کی گلیاں
کیا ماں کے ہیں غم یہ حسن جانتا تھا
کیوں پہلو شکستہ ہے اس کو پتا تھا
وہ قیدی بنانا وہ دربار جانا
ہاں اس راستے سے حسن پھر نہ گزرا
گزاری ہے تکلیف میں زندگانی
بیاں کر رہی ہیں مدینے کی گلیاں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.