Qasim Ibn Hasan Hoon
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Qasim (a.s) recited by Mir Hasan Mir
جو ہے وقار مطلبی خاندان کا
تم کو سنا رہا ہوں رجز اس جوان کا
آیا ہے شیر رن میں غذا لو رکو رکو
جاتے کہاں ہو برچھیوں والو رکو رکو
بیعت کے عنکبوت کے جالو رکو رکو
پہلے جمل کی گود کے پالو رکو رکو
کھانی ہے جنگ تم نے شہہ مشرقین سے
ہم سے بچو گئے جب تو لڑو گے حسین سے
یہ کہہ کے شیر نر نے چڑھائی جو آستیں
الٹی میان دشت صفوں پر صفیں لعیں
راہی سقر کے ہونے لگے دشمنان دیں
حملے میں وہ دھمک تھی کہ ہلنے لگی زمیں
رن کی زمین چیخ کے بولی دہائی ہے
یا رب ابوتراب کی کس سے لڑائی ہے
عباس نامدار سے حرف دعا لیا
لشکر سمیت شیر نے رن کو اٹھا لیا
ہیبت سے کوہساروں نے سر کو جھکا لیا
رستم نے اپنے منہ کو کفن میں چھپا لیا
مولا علی کا رنگ وغا یاد آگیا
میداں میں کافروں کو خدا یاد آگیا
آئی صدا نجف سے میرا نام دم کرو
میری ہی طرح حرف شجاعت رقم کرو
دادا کی جان تیغ کی رفتار کم کرو
میدان تم نے جیت لیا ہے نہ غم کرو
حسرت کے اشک بن کے سب ارمان بہہ نہ جائے
اس امتحان میں ملک الموت رہ نہ جائے
فوجوں میں غل ہوا کہ گئی زندگی کی ناؤ
پنجے سے ہم کو شیر نیستان کے چھڑاؤ
عزی ہبل منات کہاں مر گئے بتاؤ
تینوں کو دے رہے تھے صدا آؤ آؤ آؤ
ہم منتشر صفوں کی جو تنظیم کرتے ہیں
قاسم ہمارے جسموں کو تقسیم کرتے ہیں
نعرہ تھا دشت میں عمر بدخصال کا
لو شامیوں پہ آگیا لمحہ زوال کا
یہ بازوؤں کا زور یہ حملہ کمال کا
لگتا ہے یہ جوان ہے بتیس سال کا
عباس نامور کو شہہ مشرقین نے
دے دی رضا جہاد کی شاید حسین نے
یوں مثل ذوالفقار چلی تیغ بے اماں
گرنے لگے زمین پہ چوٹی کے پہلواں
ہیبت وہ تھی کہ جس سے لرزتے تھے آسماں
اک حرف بزدلی کا سفر تھا زباں زباں
بھاگو خدا کے شیر کے عکاس آئے ہیں
قاسم نہیں یہ حضرت عباس آئے ہیں
وہ پیکر نفاق وہ ارزق وہ فیل مست
اپنی اجل کا کرتے ہوئے خود ہی بندوبست
بیٹوں کے داغ اٹھا کے جو آیا لگا کے جست
آئی صدا نجف سے میرے لال دو شکست
ہر حال میں لعین کی گردن مروڑنا
یہ منکر غدیر ہے اس کو نہ چھوڑنا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.