Asghar Ka Lasha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Qamar Baltistani
اصغر کا لاشہ گود میں شبیر لے چلے
آگے بڑھے امام کبھی پیچھے ہٹ گئے
یہ سوچ کر امام کے رک جاتے ہیں قدم
کس طرح سے سہے گی وہ اس بے زباں کا غم
بانو گزر نہ جائے کہیں لاشہ دیکھ کے
چلو میں ہی سما گیا نور نظر کا خوں
چہرے پہ ہے ملا ہوا لخت جگر کا خوں
صبر حسین دیکھ کے یعقوب رو پڑے
شہ نے اٹھالی دشت سے اکبر جواں کی لاش
اٹھتی نہیں حسین سے اس بے زباں کی لاش
بازو لرزنے لگتے ہیں بیکس حسین کے
مادر سمجھ رہی ہے کہاں دور جائیں گے
پانی گئے ہیں پینے ابھی لوٹ آئیں گے
شہ کیسے بولیں ماں سے کہ اصغر نہیں رہے
قصاب نہر کرتے ہیں ناقے کو جس طرح
چھ ماہ کا صغیر ہوا ذبح اس طرح
توڑا دل حسین کو سہہ شعبہ تیر سے
اپنی عبا ہٹا کے کبھی لاش سے سوال
تم تیر کھا کے سو گئے مقتل میں میرے لال
اب کیا کہوں رباب سے اے میرے لاڈلے
آخر خیام تک وہ مسافر پہنچ گیا
لاشہ دکھا کے شہ نے تکلم یہ دی صدا
ام رباب پیاسے ہی اصغر گزر گئے
مقتل کی سمت دیکھ رہی ہے وہ بار بار
در پر کھڑی سکینہ بھی کرتی ہے انتظار
سیراب ہوگا بھائی اسے بھی امید ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.