Akbar Haye Haye Akbar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
اکبر ہائے ہائے اکبر، اکبر ہائے ہائے اکبر
ہائے جس وقت گرا زین سے ہم شکل پیمبر
شبیر کو زینب نے صدا دی یہ تڑپ کر
اکبر کے جنازے پہ مجھے لے چلو بھیا
ہم مل کے اٹھا لیں گے جواں لال کا لاشہ
اٹھارہ برس والے کا سر گود میں لے کر
میں نادعلی پڑھتی رہوں گی اے برادر
تم سینہ اکبر سے نکالو گے جو نیزہ
جو زخم لگے ہیں وہ دکھائے گا نہ تم کو
شاید وہ تکلف میں بتائے گا نہ تم کو
میں ماں ہوں مگر مجھ سے چھپا ہی نہیں سکتا
میں جانتی ہوں کیسے جواں ہوتے ہیں بیٹے
اور دیکھنے پڑ جائیں اگر ان کے جنازے
اب میں بھی سمجھ سکتی ہوں اولاد کا صدمہ
آنے نہیں دوں گی میں کسی کو بھی وہاں پر
جی بڑھ کے گلے ملنا جواں لال سے جا کر
میں موت سے کہہ دوں گی ذرا دیر ٹھہر جا
بابا میرے بابا کی صدا دے تو رہا ہے
آواز سے لگتا ہے بہت دور گرا ہے
لو ہاتھ میرا تھامو بہت دور ہے جانا
اس کرب کی حالت سے نکالے گا تمہیں کون
ارے وہ ایڑیاں رگڑے گا سنبھالے گا تمہیں کون
چادر سے بنا لوں گی میں کچھ دیر کو پردہ
ٹوٹی ہے کمر آپ کی اے میرے برادر
گر گر کے اٹھیں گے تو ہنسیں گے یہ ستمگر
میں آپ کو بننے تو نہیں دوں گی تماشہ
روتی ہے کوئی بی بی مسلسل پس پردہ
جب سے ہے سنا میر تکلم تیرا نوحہ
بھائی سے گلے مل کے بہن بولی دوبارہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.