Darbar se kya zakhm utha layi hai Zehra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Syeda Amber Naqvi
دربار سے کیا زخم اٹھا لائی ہے زہرا
اک آگ کلیجے میں چھپا لائی ہے زہرا
تیری گواہی کو جھٹلایا گیا ہے
کس جرم کی امت سے سزا پائی ہے زہرا
سو زخم جگر ہائے مرہم نہ دوا ہے
اس غم میں ہی ماتم کی فغاں لائی ہے زہرا
محسن کی شہادت بھی اک کوہ الم ہے
یثرب پہ مصائب کی گھٹا چھائی ہے زہرا
آنکھوں سے بہے آنسو اور خون جگر بھی
امت تیرے اس غم کی تماشائی ہے زہرا
کیا بیت گئی دل پہ مشکل یہ بیاں ہے
یہ بات قیامت کی خبر لائی ہے زہرا
امت نے ستایا ہے یوں بعد پیمبر
تصویر غم و رنج کی کہلائی ہے زہرا
حلقے پڑے آنکھوں میں نوحوں کا سبب ہے
نہ باپ رہا سر پر نہ بھائی ہے زہرا
مظہر یہ مصیبت تھی شہزادی کے دل پر
دربار میں جانا بڑی رسوائی ہے زہرا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.