Hussain Kal Bhi Tha Mazloom Aur Aaj Bhi Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Shahid Baltistani
دین اسلام ہے یوں حضرت شبیر کے ساتھ
کیا ستم ہو گیا اسلام کی تقدیر کے ساتھ
کل تلک ظلم ہوا دیں کے مددگاروں پر
جیسے قرآن بیاں ہوتا ہے تفسیر کے ساتھ
قتل شبیر ہوا نعرہ تکبیر کے ساتھ
آج ہوتے ہیں ستم شہ کے عزاداروں پر
ستم کی زد پہ ہمارا امام آج بھی ہے
عزا کے فرش کا ھل من پیام آج بھی ہے
نظر میں پھرتے ہیں کرب و بلا کے سب منظر
زمیں پہ بکھرا ہوا تھا حسین کا لشکر
کہیں کٹے ہوئے بازو کہیں کٹے ہوئے سر
گلی گلی میں وہی قتل عام آج بھی ہے
جلوس گریہ و ماتم پہ ظلم اتنے ہوئے
ستم کے مارے ہوئے اپنے خوں میں ڈوبے ہوئے
برستی دھوپ میں ماؤں سے بچے لپٹے ہوئے
سوال کرتے ہیں کیا فوج شام آج بھی ہے
ہوئے تھے جس طرح قاسم کی لاش کے ٹکڑے
شہید ہوتے ہیں یونہی غلام قاسم کے
جنازے ان کے بھی کاندھوں پہ اٹھ نہیں سکتے
یہ گٹھڑیوں کے کفن کا نظام آج بھی ہے
حسین کہنے پہ زینب کو تازیانہ لگا
پھر اس کے بعد اذیت کا سلسلہ نہ رکا
اسی کو مار دیا جس نے یاحسین کہا
یزید زادوں کا جاری وہ کام آج بھی ہے
امام عصر کی فریاد اب بھی ہے اکبر
زمانہ ہو گیا ویران فاطمہ کا ہے گھر
لہو کے اشک بہاتا ہے عابد مضطر
میرے گھرانے پہ غربت کی شام آج بھی ہے
نام پر شبیر کے سارے کا سارا لوٹ لو
شامیوں آؤ ہمیں آ کر دوبارہ لوٹ لو
روز عاشورہ ہمارا ہر طرف اعلان ہے
ہم سر ماتم ہیں جاؤ گھر ہمارا لوٹ لو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.