Sar-e-Bazar Pursa Tha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam
سر بازار پرسہ تھا یہی بس پردہ داروں کا
عجب ہے قافلہ زینب ترے نیزہ سواروں کا
دکھا کر زخم کانوں کے سکینہ ماں سے کہتی تھی
جو واپس مل گئے تو کیا کروں گی گوشواروں کا
عجب انداز میں قرآں حیا کا شام میں پہنچا
ہر اک پارہ الگ نیزے پہ آیا تیس پاروں کا
کھڑی ہیں عورتیں پتھر اٹھائے اپنے ہاتھوں میں
یہ استقبال ہے ابن علی کے سوگواروں کا
اسیری کی منادی کرنے والو پھر کرو اعلاں
کوئی زندان میں مارا گیا ہے غم کے ماروں کا
صدائیں اٹھ رہی تھیں ہر طرف سے مارو مارو کی
مدینے تک گیا تھا شور اکبر ان کے نعروں کا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.