Jab Tak Bhi Rahe Zinda Sajjad Ka Noha Tha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Sajjad (a.s) recited by Mir Hasan Mir
جب تک بھی رہے زندہ سجاد کا نوحہ تھا
شام نے مار دیا مجھے شام نے مار دیا
پھر جاتا ہے میری نظروں میں بازار شام کا منظر
محسوس یہ ہوتا ہے مجھ کو ہیں ساتھ پھپھی بے چادر
طے مجھ سے نہیں ہوتا بازار مدینے کا
کیسے نہ بہے خوں آنکھوں سے خنجر ہی چلا ہے ایسا
دم میری جوانی توڑ چکی بازار ہے مقتل میرا
واللہ میں زندہ ہوں کہنے کے لئے ورنہ
میراث شہادت ہے میری کیا یہ بھی میرا ورثہ تھا
پھپھیوں کو لئے جو بے چادر اس شہر سے میں گزرا تھا
سجاد کا مقتل ہے اس شہر کا ہر کوچہ
کہتی ہے شریعت سر نہ کھلے آواز اذاں جب آئے
پر اہل حرم سر پر اپنے ہاتھوں کو بھی رکھ نہ پائے
رسی نے اسیروں کو اس طرح سے جکڑا تھا
گر اہل مدینہ تم اپنے گھر مجھ کو بلانا چاہو
خوشیوں میں کبھی آسکتا نہیں مجلس کا فرش بچھاؤ
باقی نہیں خوشیوں سے اب کوئی میرا رشتہ
جب ہاتھ دعا کو اٹھتے ہیں دل غم سے میرا پھٹتا ہے
آتی ہے سکینہ یاد مجھے محسوس یہی ہوتا ہے
جیسے میرے ہاتھوں پر رکھا ہے کوئی لاشہ
بازار میں زینب کا جانا کیا موت سے کم ایذا تھی
کیوں زہر دیا ظالم مجھ کو اب اس کی ضرورت کیا تھی
پہلے ہی تکلم جب کہتا تھا میرا مولا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.