Ujar gaya hai Batool ka ghar Hussain chup hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Mir Hasan Mir
اجڑ گیا ہے بتول کا گھر حسین چپ ہے
خدا کی مرضی میں سر جھکا کر حسین چپ ہے
یہ صبر کی کون سی ہے منزل
پسر کا برچھی سے چھد گیا دل
وہ ہنس رہا ہے سرہانے قاتل
اٹھائے ہاتھوں پہ لاش اکبر
گیا ہے لاکھوں میں وہ اکیلا
چلائے جاتے ہیں تیر اعدا
کہیں سے برچھی کہیں سے بھالا
برس رہے ہیں کہیں سے پتھر
لگا ہے کیوں میرے دل کو دھڑکا
لہو سے کس کے یہ تر ہے چہرہ
کہاں ہے اصغر بتائیں مولا
سوال اصغر کی ماں کا سن کر
نصیب راہب جو شہ نے بدلا
وہاں پہ خاموش کبریا تھا
مگر یہ منظر ہے کربلا کا
یہاں پہ دے کر خدا کو اکبر
کہا یہ قاصد نے رو کے مولا
مریض بیٹی کا خط ہوں لایا
سلام سب کو ہے اس نے لکھا
سلام کا بس جواب دے کر
ہوئے ہیں زخموں سے چور مولا
بدن سے بہتا ہے خوں کا دریا
کہے تو رکھ دوں الٹ کے دنیا
مدد کو آیا ہے رن میں زعفر
لڑی اکیلے میں وہ لڑائی
دہائی دینے لگی خدائی
صدا جونہی ارجعی کی آئی
نیام میں ذوالفقار رکھ کر
حسین گوہر یہ جانتا ہے
سفر یہ چودہ سو سال کا ہے
ستم جو اب تک وہ سہہ رہا ہے
ہے راز اس میں کوئی تو اکبر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.