Di Thi Amma Ne Jo Poshak Woh La Do Zainab
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Alwidaii recited by Mir Hasan Mir
دی تھی اماں نے جو پوشاک وہ لا دو زینب
اپنے ہاتھوں سے کفن مجھ کو پہنا دو زینب
ہاتھ پابند رسن بہنا تمہارے ہوں گے
مجھ کو رہ رہ کہ خیال آتا ہے لاشے سے میرے
تیر کس طرح نکالو گی بتا دو زینب
آج مقتل میں فقط بات تمہاری ہوگی
ابھی اماں سے ملاقات ہماری ہوگی
کوئی پیغام اگر ہے تو سنا دو زینب
سامنے اپنے سکینہ سے اتروا لو گوہر
ابھی کچھ دیر میں لٹ جائے گا مظلوم کا گھر
یہ امانت کسی گوشے میں چھپا دو زینب
میرے لاشے کی رہے گی تمہیں پہچان بہن
چاک کر دو میرے کرتے کا گریبان بہن
کوئی لوٹے نہ اسے ایسا بنا دو زینب
قید خانے کی سنبھالو یہ امانت بی بی
گود میں لو اسے مظلوم ہو رخصت بی بی
میرا دامن میری بچی سے چھڑا دو زینب
باہر آنے کو نہ خیمے سے میں کہتا تم کو
ہوتے عباس تو تکلیف نہ دیتا تم کو
بن کے عباس مجھے زیں پے بٹھا دو زینب
گھر سے شبیر جنازے کی طرح سے نکلے
سب ہی روتے تھے تکلم در خیمہ پہ کھڑے
شہ نے جس دم کہا مرنے کی رضا دو زینب
جب سے اکبر گئے بینائی بھی آنکھوں کی گئی
لا کے دے دو علی اصغر کی نشانی کوئی
کرتا بے شیر کا آنکھوں سے لگا دو زینب
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.