Awaz To De Akbar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
کڑیل جواں کی لاش پر کہتا رہا رو کر پدر آواز تو دے اکبر
گرتا ہوا اٹھتا ہوا آ تو گیا ہوں میں مگر گم ہو گیا نور نظر آواز تو دے اکبر
آئی صدا جدھر سے میں اس طرف بڑھوں گا
آواز سنتے سنتے تجھے ان میں ڈھونڈ ہی لوں گا
تو ہے جدھر پیارے میرے دھیرے سے یہ کہتے ہوئے
بابا ادھر بابا ادھر آواز تو دے اکبر
تو نوجواں ہے اکبر اور ہے ضعیف بابا
کیسے اٹھاؤں میت مجھ کو تو بتا دے اتنا
جانا ہے اب خیام تک کیسے کروں میں یہ سفر
خم ہو گئی میری کمر آواز تو دے اکبر
تیری صدا کو سن کر وہ پھر سے جی اٹھے گی
ہمشیر تیری ورنہ شاید نہیں جی پائے گی
سینے کی برچھی تھام کے صغری کو اس کے نام سے
اک بار ہمت جوڑ کر آواز تو دے اکبر
صغری کے نامہ بر کو خط کا جواب کیا دوں
جو منتظر ہے اس کو برچھی کا حال سنا دوں
رستے سے اب نظریں ہٹا مارا گیا بھائی تیرا
کیا بھیج دوں اس کو خبر آواز تو دے اکبر
کیسے بیاں کروں میں وہ درد ناک منظر
سکتہ میں تھی خدائی روتا تھا سارا لشکر
جب فاطمہ کے لال نے ہاتھوں پہ لیکر خاک سے
رکھ کر کہا زانو پہ سر آواز تو دے اکبر
برچھی سے بس کلیجہ تیرا نہیں چھدا ہے
مقتل میں فاطمہ نے دل اپنا تھام لیا ہے
بھائی حسن نانا نبی بابا علی دادی تیری
موجود ہیں سب ہی ادھر آواز تو دے اکبر
اکبر جناب اکبر خاموش ہو گئے تھے
شبیر سر جھکائے لاشے کے پاس کھڑے تھے
زینب کبھی لیلی کبھی بہنیں کبھی نامہ بر
کہتا رہا یہ سارا گھر آواز تو دے اکبر
لاشے کے دونوں جانب بیٹھیں ہیں مائیں دونوں
سینے پہ بوسے دیکر لیتی ہیں بلائیں دونوں
زینب ادھر لیلی ادھر چومیں تیرا زخمی جگر
ان سے تو کوئی بات کر آواز تو دے اکبر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.