Simti kuch aise wahi ki dunya ghadeer mein
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Ghadeer
سمٹی کچھ ایسے وحی کی دنیا غدیر میں
بلغ پہ آ کے رک گئی اقرا غدیر میں
سورج یہ کہہ کے دین کا ابھرا غدیر میں
تکمیل آج پائے گا کلمہ غدیر میں
جب سے علی ہیں تب سے ہیں مولائے کائنات
اعلان طے شدہ تھا کہ ہو گا غدیر میں
قرآں بنا ہوا تھا ولایت کی منقبت
توحید پڑھ رہی تھی قصیدہ غدیر میں
قرآں کی آیتوں کا سفر انتہا پہ تھا
تھی ابتدا پہ نہج بلاغہ غدیر میں
بازو بلند کر کے دکھاتا رہے رسول
اندھوں نے پھر بھی کچھ نہیں دیکھا غدیر میں
نام علی نہیں تھا تو اندھی تھی یہ اذان
پورا ہوا اذان کا چہرہ غدیر میں
پردے کے پار کون تھا پردے کے آر کون
معراج سے اٹھا ہے وہ پردہ غدیر میں
رستہ بھٹک گیا تھا مسافر غدیر کا
حر بس ذرا سی دیر سے پہنچا غدیر میں
عشق علی میں ہوتا تقیہ اگر حلال
آیت کبھی بدلتی نہ لہجہ غدیر میں
حسان کی جگہ میں پڑھوں گا یہ منقبت
منبر سجے گا جب یہ دوبارہ غدیر میں
صدیوں کا فاصلہ ہے مرے ان کے درمیان
لیکن میں جانتا ہوں کہ میں تھا غدیر میں
سجدہ کبھی ادھر کیا اکبر کبھی ادھر
دائیں تو ایک بائیں تھا کعبہ غدیر میں
دل مست آنکھ مست زباں مست روح مست
قنبر تھا خاص دیکھنے والا غدیر میں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.