Pursa hussain ka
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Mir Hasan Mir
زہرا قبول کیجئے پرسہ حسین کا
پیاسے کا بے وطن کا شہ مشرقین کا
جب ماہِ محرم نے خبر غم کی سنا دی
رُخ کر کے بقیع کا یہ مومن نے صدا دی
تشریف لائیں فرشِ عزا شہ کا بچھ گیا
زہرا قبول کیجئے۔۔۔
مظلوم کے غم میں ہوئی مغموم خدائی
پھر نام پہ پیاسوں کے سبیلیں ہیں لگائی
گھر گھر میں ہے حسین کی غربت کا تذکرہ
زہرا قبول کیجئے۔۔۔
ہر موڑ پہ ڈھارس جو رہا بنتِ علی کی
وہ جس کی شہادت پہ کمر شہ کی جھکی تھی
اس شیر کے کٹے ہوئے شانوں کا واسطہ
زہرا قبول کیجئے۔۔۔
آئی جو مدینے میں وہ زنداں سے پلٹ کر
گھر جانے سے پہلے گئی مادر کی لحد پر
زینب نے ماں کی قبر پہ دی پہلی یہ صدا
زہرا قبول کیجئے۔۔۔
غازی کو اسی ماں نے سکھائیں تھی وفائیں
بیٹوں کے لئے بھرتی بھلا کیسے وہ آہیں
نوحہ تھا یہ بقیع میں
اُم البنین کا
زہرا قبول کیجئے۔۔۔
پردیس میں امت نے جسے زخم دیئے ہیں
اک دن میں جسے داغ بہتر کے ملے ہیں
اُس پر سلام جس کا بھرا گھر اُجڑ گیا
زہرا قبول کیجئے۔۔۔
جینے نہ دیا اُس کو مسلمانوں نے بی بی
پالا تھا جسے آپ نے ارمان سے بی بی
ہائے رُلا رُلا کے اُسے ذبح کر دیا
زہرا قبول کیجئے۔۔۔
مظلوم کی گردن پہ وہ چلتا ہوا خنجر
خوں ان کو رُلاتا ہے تکلم یہی منظر
دادی کی اجڑی قبر پہ مہدی کا ہے نوحہ
زہرا قبول کیجئے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.