Zainab Ke Samne
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Syed Wajhi Hasan Zaidi
بھائی بہن پہ کیسی غربت کی یہ گھڑی ہے
ستر قدم سے زینب منظر یہ دیکھتی ہے
پیاسے گلے پہ ظالم خنجر چلا رہا ہے
گن گن کے وار کر کے ہنس ہنس کے دیکھتا ہے
بیٹھی ہوئی ہے ماں بھی شبیر کے سرہانے
کہتی ہے آئی ہوں میں بیٹا تجھے بچانے
زخمی ہیں ہاتھ ماں کے اور بھائی کا گلا ہے
مقتل میں آ نہ جائے روتی ہوئی سکینہ
خیموں کو دیکھتی ہیں مڑ مڑ کے بنت زہرا
جب شمر شاہ دیں کے سینے پہ بیٹھتا ہے
خنجر کو روک لے اے خنجر چلانے والے
یہ وہ گلا ہے جسکو چوما ہے مصطفی نے
گردن پہ ہاتھ رکھ کے زہرا نے یہ کہا ہے
رو رو کے ہاتھ اپنے چہرے پہ مارتی ہے
عباس تم کہاں زینب پکارتی ہے
جب شمر شاہ دیں کے بالوں کو کھینچتا ہے
مظلوم بے وطن پر ایسے نا تو جفا کر
کیوں ظلم ڈھا رہا ہے اے شمر کچھ حیا کر
سوکھی ہوئی رگوں کو خنجر سے کاٹتا ہے
دل پھٹ رہا ہے کتنے ہیں زخم اس کے تن میں
سب نے رلا رلا کے مارا ہے اس کو رن میں
زہرا ہی جانتی ہیں بھائی کا حال کیا ہے
ہاں وہ وجیہہ غربت ذیشان کیسے لکھے
وار آخری کیا جب ظالم نے مسکرا کے
کٹ کے بدن سے ہائے سر خاک پر گرا ہے
یہ تھک چکا ہے رن میں لاشے اٹھا اٹھا کے
کیوں اس پہ ہنس رہا ہے خنجر دکھا دکھا کے
یہ ہے غریب زہرا کیوں اس کو مارتا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.