Zahra ki betiyon ki radayen utar gayeen
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Hasan Mir, Chakwal Party
زہرا کی بیٹیوں کی ردائیں اتر گئیں
سجاد کو ضعیف صدائیں یہ کر گئیں
لاشوں کو رسیوں میں جکڑ کر لئے پھرو
سیدانیاں تو گھر سے نکلتے ہی مر گئیں
جاتیں تھی جو کبھی کبھی زہرا کی قبر پر
جانے خدا ہجوم سے کیسے گزر گئیں
ظلم و ستم کی تیز ہوائیں تھیں جب چلیں
سب گلشن بتول کی کلیاں بکھر گئیں
گودوں سے راہ شام میں گر گر کے مر گئے
بچوں کے لاشے دیکھ کے مائیں بھی مر گئیں
رملہ یہ پوچھتی تھی سکینہ سے قید میں
زخمی ہیں کان بالیاں بی بی کدھر گئیں
بازار لے کے جاؤ نہ بے پردہ ظالموں
مر جائیں گی حسین کی بہنیں اگر گئیں
سرور تو کیا لکھے گا نبی زادیوں کے غم
سمجھو کے شام جانے سے پہلے ہی مر گئیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.