Pehlu Bhi Shikasta Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mir Hasan Mir
پہلو بھی شکستہ ہے تربت بھی شکستہ ہے
کیا حال یہ امت نے زہرا کا بنایا ہے
دربار میں ظالم نے کی ایسی پذیرائی
کس طرح سے تو بی بی پھر لوٹ کے گھر آئی
بالوں کی سفیدی نے سب حال سنایا ہے
خاتون کوئی غم سے یوں چور نہیں دیکھی
ایسی کوئی دنیا میں مستور نہیں دیکھی
اٹھارہ برس میں ہی لگتی جو ضعیفہ ہے
دو ایسے جنازے ہیں تاریکی میں جو اٹھے
بس گھر کے ہی لوگوں نے دونوں کو دیئے کاندھے
اک فاطمہ زہرا ہے اک بالی سکینہ ہے
تو روتی رہی گھر میں حیدر سے بھی چھپ چھپ کے
عصمت کی طرح دکھ بھی پردے میں رہے تیرے
کچھ درد تیرے بی بی بس جانتی فضہ ہے
مسمار تیرا روضہ امت نے کیا جب سے
بابا تیرا رہتا ہے تربت پہ تیری تب سے
کب گنبد خضرا میں بابا تیرا رہتا ہے
مرہم تیرے زخموں کا بی بی نہ ملا اب تک
اولاد امیہ کی باقی ہے جفا اب تک
رونے پہ بھی پہرا تھا تربت پہ بھی پہرا ہے
تصویر حقیقت کی خوابوں کو بنا دیجئے
اے بی بی تکلم کو تعبیر دکھا دیجئے
ماتم تیری تربت پہ ہوتے ہوئے دیکھا ہے
مہدی سے کوئی پوچھے کیا اس پہ گزرتی ہے
آواز بقیعہ سے جب رونے کی آتی ہے
آنکھوں سے لہو رو کر وہ بھی یہی کہتا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.