Pathar hai aankh jisme
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Sachay Bhai
پتھر ہے آنکھ جس میں کہ آشک عزا نہیں
وہ دل نہیں کہ جس میں علی کی ولا نہیں
جس قلب میں مودت آل عبا نہیں
سمجھو نبی سے اس کو کوئی واسطہ نہیں
پتھر ہے آنکھ۔۔۔
بس اس پہ زیب دیتی ہے دستار مصطفیٰ
جو سر یزیدیت کے مقابل جھکا نہیں
پتھر ہے آنکھ۔۔۔
کربوبلا نجات بشر کی یکای ہے
کربوبلا کے بعد کوئی کربلا نہیں
پتھر ہے آنکھ۔۔۔
ہے دل غمِ حسین میں اک آشک کے عوض
گر خلد مل رہی ہے تو سودا برا نہیں
پتھر ہے آنکھ۔۔۔
صدیوں سے جل رہا ہے چراغِ غم حسین
اشکوں کا یہ چراغ ہوا سے بجھا نہیں
پتھر ہے آنکھ۔۔۔
اسلام کے وقار پہ خنجر چلا تھا یہ
شبیر کے گلے پہ یہ خنجر چلا نہیں
پتھر ہے آنکھ۔۔۔
آؤ غمِ حسین میں ماتم بپا کرے
یہ وہ نماز عشق ہے جس کی قضا نہیں
پتھر ہے آنکھ۔۔۔
زینب کھڑی ہے اد جلے خیموں کے درمیاں
کیا وقت آگیا ہے کہ سر پر ردا نہیں
پتھر ہے آنکھ۔۔۔
زینب نے بے ردائی سے بازار شام تک
وہ کونسا ستم ہے جو دل پر سہا نہیں
پتھر ہے آنکھ۔۔۔
یا رب تیرے نبی کی شریعت تو بچ گیء
آل نبی کے گھر میں تو کچھ بھی بچا نہیں
پتھر ہے آنکھ۔۔۔
تا زندگی محب نے منافق سے جنگ کی
حالانکہ اس کے ہاتھ میں کوئی عصا نہیں
پتھر ہے آنکھ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.