Ya Rab Yeh Arzoo Hai Ke Main Bhi Mashi Karoon
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Syed Wajhi Hasan Zaidi
یارب یہ آرزو ہے کہ میں بھی مشی کروں
کرتے ہیں جو امام زمانہ وہی کروں
جا کر ضریح شہ سے لپٹ جاؤں ایک بار
مقتل کے پاس بیٹھ کے روؤں میں زار زار
جابر کبھی جو کرتے تھے میں وہ ابھی کروں
راہوں میں نوحے سنتا سناتا ہوا چلوں
ہر اک قدم پہ اشک بہاتا ہوا چلوں
ماتم میں شاہ دیں کے نہ ہرگز کمی کروں
کرب و بلا کے رستے میں موکب بناؤں میں
روضے پہ آنے والوں کے پاؤں دباؤں میں
مولا کے زائرین کی میں نوکری کروں
غازی کے اور شاہ کے روضے کے درمیاں
بیٹھوں وہاں اترتے ہیں حور و ملک جہاں
جنت میں تھوڑی دیر بسر زندگی کروں
گھوڑے سے جس جگہ پہ گرے اکبر جواں
اکبر کے دل سے شہ نے نکالی جہاں سناں
دل کھول کے وہاں پہ میں سینہ زنی کروں
شام غریباں آگ لگائی گئی جہاں
شب بھر جہاں پہ صرف اندھیرا تھا اور دھواں
اشکوں سے خیمہ گاہ میں کچھ روشنی کروں
زنجیر بھی لگاؤں قمہ بھی لگاؤں میں
آنکھوں کے راستے ہی سہی خوں بہاؤں میں
عابد کے خوں کے پرسے کی میں پیروی کروں
دنیا سے جتنی بھی ہیں امیدیں وہ توڑ دوں
جا کر وہاں میں سارے زمانے کو چھوڑ دوں
کربل سے واپسی کی نہ خواہش کبھی کروں
ثقلین اور وجیہہ کے دل کی ہے یہ صدا
ہر راہ میں ہو نوحہ ہر اک گام پر بکا
ماتم شہ ہدا کا گلی در گلی کروں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.