Yeh Azadari Rahay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Irfan Haider
شمع سے شمع جلے سلسلہ جاری رہے
ہم رہیں یا نہ رہیں یہ عزاداری رہے
لاکھ بدلے یہ زمانے کی روش اور موسم
ایک پل بھی نہ رکے اشک عزا اور ماتم
ماتم شہ کا جنوں ذہن پر طاری رہے
اپنی نسلوں کو سکھاتے رہو ماتم کا ہنر
سینہ در سینہ کرے بس یہ عزاداری سفر
جیسے حالات بھی ہوں رسم یہ جاری رہے
یہ سبیلیں یونہی آباد رہیں اہل عزا
اور گھر گھر پہ نظر آئے علم غازی کا
یہ علم اونچا رہے یہ علمداری رہے
تم اگر ذاکر شبیر ہو یہ یاد رہے
چاہے اس غم کے لیے سر بھی کٹے گھر بھی جلے
حرمت فرش عزا جان سے پیاری رہے
ماؤں بہنوں کو ہے پیغام میرا صرف یہی
اپنے بچوں کو جلوسوں سے نہیں روکو کبھی
یہ شہادت ہے شرف یہ شرف جاری رہے
دنیا والوں کی نہ پرواہ نہ کچھ بات کرو
منتیں بیڑیاں سجاد کے غم میں پہنو
رونق فرش عزا گریہ و زاری رہے
مجلس شاہ کی زنداں میں جو بنیاد رکھی
اصل میں زینب و سجاد کی خواہش تھی یہی
یہ عزادار رہیں یہ عزاداری رہے
اپنے گھر میں بھی عزا خانہ سجانا ہے مجھے
اپنے بچوں کو عزادار بنانا ہے مجھے
تاکہ اس نسل میں بھی تعزیہ داری رہے
مجلس و ماتم شبیر کی تبلیغ کرو
بات یہ مظہر و عرفان زمانے سے کہو
منکر زہرا سے ہر حال میں بیزاری رہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.