Abjad aur aadaad barabar niklay hain
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on General
ابجد اور اعداد برابر نکلے ہیں
بہتر کے معیار بہتر نکلے ہیں
رن میں زندہ صرف بہتر نکلے ہیں
باقی کے نو لاکھ تو پتھر نکلے ہیں
جتنے بھی تاریخ میں لشکر نکلے ہیں
جرأت میں بے شیر سے کمتر نکلے ہیں
پس منظر سے لاکھوں منظر نکلے ہیں
اک چلو سے سات سمندر نکلے ہیں
جتنے ہیں قرآن میں نام ملائک کے
سب زہرا کے نوکر چاکر نکلے ہیں
میرے ساتھ نجف جو سائل پہنچے تھے
ان میں سے دو چار پیمبر نکلے ہیں
پل میں کیسے ضعف بدن کا ٹھیک ہوا
کس کی چادر اوڑھ پیمبر نکلے ہیں
دست نبی پہ پورا کلمہ پیش کیا
شیخ سے اچھے تو وہ کنکر نکلے ہیں
عشق علی کے لوگ کہیں بھی دفن ہوئے
جاگے تو کعبے کے اندر نکلے ہیں
یارب کیسے ہاتھ ملانے مہدی سے
تیرے گھر سے مالک اشتر نکلے ہیں
حج کرنے آئے تھے خالق کے گھر میں
گھر سے علی کا کلمہ پڑھ کر نکلے ہیں
اے جبرئیل امانت اپنی لے جاؤ
خیبر کی مٹی سے کچھ پر نکلے ہیں
اہل عزا سے منہ کو چھپانے والو کیا
ہم ہاتھوں میں شیشہ لے کر نکلے ہیں
اپنے گھروں میں لوگ رہیں ہم اہل عزا
ماتم کرنے گھر سے باہر نکلے ہیں
وہ کردار کی باتیں کرنا کیا جانیں
جو فرقے تلوار کے دم پر نکلے ہیں
اک بے شیر کی آمد پہ نو لاکھ کا حال
جیسے رن میں چودہ حیدر نکلے ہیں
شکر کے ذیل میں آئے ہیں رن میں اکبر
صبر کے باب میں ہنستے اصغر نکلے ہیں
منفی بات بھی مثبت ہوتی ہے اکبر
آج نئے جو فطرس کے پر نکلے ہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.