Nezay Par
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala
ہائے شبیر کا سر ایسے چڑھا نیزے پر
باقی گردن کا لہو سارا بہا نیزے پر
تیر نے زخمی کیا پہلے گلوئے اصغر
اور وہ پیاسا گلا پھر سے چھدا نیزے پر
پوچھا بے شیر کی ماں نے میرا اصغر ہے کہاں
رو کے بانو سے یہ زینب نے کہا نیزے پر
دیکھو عباس کا سر خاک پہ گر جاتا ہے
اس سے دیکھی نہیں جاتی ہے ردا نیزے پر
تیر نظروں کے لگے زینب دلگیر کو جب
سر شبیر نے قرآن پڑھا نیزے پر
بعد کربل بھی وہ ہمراہ اسیروں کے رہے
سب شہیدوں نے ہر اک ظلم سہا نیزے پر
شام بازار میں ہر بی بی نے کھائے پتھر
ساتھ ہر سر بھی وہاں زخمی ہوا نیزے پر
نام لے کر وہ بلاتے رہے ہر بی بی کو
سن کے یہ نام ہر اک روتا رہا نیزے پر
جنگ شبیر نے اس طرح سے جیتی حسنین
بن کے اسلام کی پہچان اٹھا نیزے پر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.