Haye Haye Mazloom Imam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Ali Kabir Ajmal
عاشور کا یہ روز قیامت کا روز ہے
سادات مصطفی کی مصیبت کا روز ہے
زہرا کے لاڈلوں کی مصیبت کا روز ہے
بکھری ہیں لاشیں چاہنے والوں کی چار سو
پیاسوں کے خوں سے آج ہے مقتل لہو لہو
تاراج ہو گیا چمن بنت مصطفی
مارے گئے دو پھول سے زینب کے مہ لقا
قاسم کا جسم دشت میں تقسیم ہو گیا
رنج و عالم غریب سے آ کر لپٹ گئے
عباس نامدار کے بازو بھی کٹ گئے
ٹھوکر لگی زمیں پہ گرے شاہ کربلا
آنکھوں کا نور داغ پسر سے چلا گیا
اکبر کا سارا جسم ہے خوں میں اٹا ہوا
درد جگر سے ایڑیاں رگڑیں گزر گیا
آنکھوں کے سامنے ہی جواں لال مر گیا
خیمے میں آئے رخصت آخر کو پھر حسین
برپا تھا فرط رنج سے سیدانیوں میں بین
ہر سمت تھی فضاؤں میں آواز شور و شین
خیمے سے ایسے جانب مقتل چلے امام
جیسے کسی جنازے کا ہوتا ہے اہتمام
کرب و بلا کے دشت میں تنہا غریب کو
چاروں طرف سے فوج نے گھیرا غریب کو
تیغوں سے اور نیزوں سے مارا غریب کو
اتنے چلائے تیر کے زخمی بدن گرے
رہوار سے زمیں پہ امام زمن گرے
پتھر سے مارا تشنہ دہن کو ستم کیا
بوسہ گاہ رسول سے خوں بہتا رہ گیا
ظلم و ستم کا روکا نہ اعدا نے سلسلہ
مولا مسافت میں تھے اپنوں سے دور تھے
پیاسے تھے تین روز کے زخموں سے چور تھے
بیٹی علی کی تلۂ مقتل تک آ گئی
دست نجس میں شمر کی دیکھی جو اک چھری
بیکس نے غمزده نے تڑپ کر صدا یہ دی
اے شمر فاطمہ کی کمائی کو چھوڑ دے
کچھ کھا ترس غریب کے بھائی کو چھوڑ دے
سر پیٹتی تھیں میر ہلال اشکبار تھیں
اجمل تھا پارہ پارہ جگر سوگوار تھیں
زہرا دہائی دیتی رہیں بے قرار تھیں
شمر لعیں نے رحم نہ کھایا حسین پر
خنجر جو کند تھا وہ چلایا حسین پر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.