Aye Alam Walay
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Hasan Mir
اے علم والے
اونچا رہے اپنا علم جب تک بھی ہے سینوں میں دم
سجتا رہے بڑھتا رہے اونچا رہے علم عباس کا علم
علم کے سائے میں عباس کے حبدار بیٹھے ہیں
کہیں سلمان و ابوذر اور کہیں مختار بیٹھے ہیں
زباں میں آج میری اک انوکھی سی روانی ہے
بہت نزدیک شاید میثم تمار بیٹھے ہیں
پدر سے مٹھیاں عباس کی جھولے میں کہتی ہیں
ابھی سے کربلا جانے کو ہم تیار بیٹھے ہیں
ماہ شعبان ہے مولا پلا جام ولا ہم کو
میرے ساقی تیری چوکھٹ پہ سب میخار بیٹھے ہیں
علم برداری عباس کی تقریب جاری ہے
ابوطالب کے گھر سارے علم بردار بیٹھے ہیں
اٹھے ماتم کی خاطر اور مجلس کے لیے بیٹھے
نہ ہم بیکار اٹھے تھے نہ ہم بیکار بیٹھے ہیں
گئیں ہیں شام و کوفہ دیکھنے عباس کی بہنیں
کہاں چھپ کر ہمارے شیر سے فرار بیٹھے ہیں
تماشہ کر رہی ہے موت میداں میں کھڑے ہو کر
بدن پر شام والوں کے یوں تیرے وار بیٹھے ہیں
فضائل پر علی مولا کے رک کر مصطفی بولے
کبھی پھر پوچھنا سلمان ابھی اغیار بیٹھے ہیں
ادب سے نام پر عباس کے تا زندگی عابد
ہزاروں بار اٹھے ہیں ہزاروں بار بیٹھے ہیں
علی اصغر کا صدقہ ہے دلوں میں اہل باطل کے
تکلم تیر کی صورت تیرے اشعار بیٹھے ہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.