Naukri shabbir ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Shahid Baltistani
حیا علی خیر العمل
میرے خوں کی طہارت کہتی ہے
مجھے ہر شاہی سے اچھی ہے
نوکری شبیر کی
یہ سب کو میسر ہوتی نہیں
یہ حر جیسوں کو ملتی ہے
نوکری شبیر کی
یہ منصب جس کو مل جائے
زہرا کی دعائیں پاتا ہے
وہ خاک کا ذرہ ہو کر بھی
خود خاک شفا بن جاتا ہے
یہ نعمت تو ہم جیسوں کی
تقدیر بنائے رکھتی ہے
نوکری شبیر کی۔۔۔
یہ فرش عزا تابوت علم
یہ نوحے مجلس اور ماتم
پانی کی سبیلیں اور لنگر
معصوم علی اصغر کی قسم
ہم اہلِ عزا کی مذہب میں
کہلاتی تھی کہلاتی ہے
نوکری شبیر کی۔۔۔
یہ لوگ جو نوحہ پڑھتے ہیں
یہ لوگ جو ماتم کرتے ہیں
یہ ماں بہنیں جو روتی ہیں
ذاکر جو خطابت کرتے ہیں
دروازہء زہرا پر ان کی
تا روز قیامت پکی ہے
نوکری شبیر کی۔۔۔
شبیر کے جتنے نوکر ہیں
سیراب جام کوثر ہیں
خدام عزا خانوں کے جو ہیں
قسمت کے ابوذر قمبر ہیں
اس عزت کو خود بنت علی
قرآں کی زباں میں کہتی ہے
نوکری شبیر کی۔۔۔
مجلس میں سیاست مت کرنا
مولا سے بغاوت مت کرنا
اس فرش عزا پر آ کے طلب
اس ذکر کی قیمت مت کرنا
بے لوث جو ماتم کرتے ہیں
بس ان کو شفاعت دیتی ہے
نوکری شبیر کی۔۔۔
وہ سجدۂ آخر جلتی زمیں
جس سجدے کا ثانی ہی نہیں
خنجر کے تلے جس دم رکھی
شبیر نے ہائے زخمی جبیں
جبریل نے آ کر دی یہ صدا
منظور خدا نے کر لی ہے
نوکری شبیر کی۔۔۔
ریحان قلم بھی نوکر ہے
کاغذ بھی غلام سرور ہے
درویش صفت ہر لفظ میرا
لکھتا جو عزا کا منظر ہے
کہتی ہے میری نوحہ گوی
تقدیر میں تیری لکھ دی ہے
نوکری شبیر کی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.