Farsh e mehfil pe hum kar rahay hain
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Qamar Baltistani
فرش محفل پہ ہم کر رہے ہیں یہ جو ذکر ولا بیٹھے بیٹھے
باجماعت نماز مودت ہو رہی ہے ادا بیٹھے بیٹھے
بال و پر دیں گے فطرس کو مولا اپنے جھولے میں ہی لیٹے لیٹے
اور راہب کو دے دیں گے بیٹے شاہ کرب و بلا بیٹھے بیٹھے
اے طبیب زمانہ یہ دیکھو لادوا جن کو تم کہہ رہے تھے
ان مریضوں کو صحن حرم میں مل رہی ہے شفا بیٹھے بیٹھے
آ گئی تھی میرے گھر میں مشکل آ کے فورا ہی واپس گئی تھی
ایک چادر بچھا کر پڑھی تھی بس حدیث کساء بیٹھے بیٹھے
میری نیکی بدی لکھنے والے میرے حق میں دعا لکھ رہے تھے
میرے کاندھوں کے دونوں فرشتے جب گئے کربلا بیٹھے بیٹھے
کیوں پریشاں ہو گھبرا رہے ہو آؤ پرچم کے سائے میں بیٹھو
جو بھی کہنا ہے غازی سے کہہ دو پوری ہوگی دعا بیٹھے بیٹھے
شام سے جب بھی زائر ہیں آتے بیٹھ جاتا ہوں قدموں میں ان کے
آرزو ہے کہ ایک دن مجھے پھر یوں ہی آئے قضا بیٹھے بیٹھے
کہہ دو اختر یہ الفت نہیں ہے یہ تقاضا ولایت کا کب ہے
ہم پہ واجب ہوئیں جو نمازیں کر رہے ہیں قضا بیٹھے بیٹھے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.