Matam e Shah Mein Lahoo Ka Qatra Qatra Ek Hai
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Askari Hasan Zaidi
ماتم شہ میں لہو کا قطرہ قطرہ ایک ہے
جسم سب کے مختلف ہیں خون سب کا ایک ہے
واقعہ تاریخ میں ایسا وفا کا ایک ہے
سینکڑوں دریا پہ ہیں سیراب پیاسہ ایک ہے
عرش پر خالق علی منبر پہ زینب شام میں
جس مقرر کو بھی سنیئے اس کا لہجہ ایک ہے
کیا ہوا میں نے جو بہتر کو بہتر پڑھ لیا
کر کے ہجے دیکھ لو دونوں کا املا ایک ہے
خوں ابوطالب کا اٹھارہ بنی ہاشم میں ہے
کربلا میں ہر شجاعت کا حوالہ ایک ہے
شام کے پردے سے سورج شام کے لشکر سے حر
نسبتا دیکھیں تو دونوں پلٹنا ایک ہے
مادر شبیر کہتی ہے اسے اپنا پسر
یعنی ساحل پر بھی احمد کا نواسہ ایک ہے
جس کا مالک چودہ صدیاں ہو گئیں بدلا نہیں
ایسا دریا ایک ہے اور ایسا قبضہ ایک ہے
تیغ حیدر چشم غازی اور اصغر کی ہنسی
معرکے سب کے الگ ہیں اور حملہ ایک ہے
یوں تو کہنے کو سبھی انساں ہیں لیکن اے بلال
اصل میں انساں وہی ہے جس کا چہرہ ایک ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.