Aye Zair e Hussain Al Salam
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Arbaeen recited by Mir Hasan Mir
کس طرح سے بیان ہو منظر وہ عشق کے
پیدل جو کربلا کو نکلتے ہیں قافلے
کوئی نجف سے اور کوئی بصرہ کی راہ سے
ہاتھوں میں یاحسین کے پرچم لیے ہوئے
زائر جو کربلا کی طرف دوڑے جاتے ہیں
عباس چل کے خود انہیں لینے کو آتے ہیں
حج کے بغیر حج کا فریضہ ادا کیا
موسم کی کوئی فکر نہ خوف قضا کیا
چھالوں سے اپنے مرہم زخم انا کیا
تو نے پیادہ پا سفر کربلا کیا
قطرے تیرے پسینے کے کیا کام آئے ہیں
اللہ نے انہی سے فرشتے بنائے ہیں
دلہن کی طرح راہ سجاتے ہیں عاشقین
خیمے محبتوں کے لگاتے ہیں عاشقین
جو سال بھر میں رزق کماتے ہیں عاشقین
دولت وہ زائروں پے لٹاتے ہیں عاشقین
کہتے ہیں پھر بھی قلب ہمارے نہ بھر سکے
ہم زائر حسین کی خدمت نہ کر سکے
ہوتی ہے اک قطار موکب وہاں سجی
خدمت میں زائرین کی رہتا ہے ہر کوئی
پانی لیے کوئی تو کوئی بن کے ماشی
ان خادموں کے عشق پے کہتا ہے دل یہی
کرتے ہیں صاف آ کے پسینہ جبین سے
ملنے حسین آتے ہیں جب خادمین سے
جو راستے میں کرب و بلا کے گزر گئے
کیسے کہوں کے میر تکلم وہ مر گئے
پردیس میں تھے لوٹ کے وہ اپنے گھر گئے
آئے اجل بتاؤں وہ زائر کدھر گئے
دار فنا سے ملک بقاء لے گئے حسین
خود آ کے ان کو کرب و بلا لے گئے حسین
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.