Tumhara gham rahe zinda hamesha karbala walo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Hasan Mir
تمہارا غم رہے زندہ ہمیشہ کربلا والو
دعائیں دیتی ہیں تم سب کو زہرا کربلا والو
لہو میں ڈوب کر اپنے کیا سیراب دریا کو
تمہاری پیاس کا اب تک ہے چرچا کربلا والو
کوئی پیاسا نہیں دنیا میں اب اتنی سبیلیں ہیں
تمہارا ہو گیا سارا زمانہ کربلا والو
اے چاند کربلا کے تو نے تو دیکھے ہوں گے
اترے تھے اس زمیں پر عرش بریں کے تارے
ہم اپنے مرنے والوں کا بھی غم کرتے نہیں اس میں
محرم ہے تمہارا اور رہے گا کربلا والو
امام عصر سے کہہ دو کسی صورت چلے آئیں
سکینہ شام میں اب تک ہے تنہا کربلا والو
خدا پر بات آجائے تو سر پیارا نہیں کرتے
سکھایا تم نے یہ سب کو سلیقہ کربلا والو
تمہارے نام کی مجلس ہر اک شادی میں ہوتی ہے
خوشی میں بھی تمہارا غم ہے تازہ کربلا والو
تمہارا مرتے دم تک راستہ تکتی رہی صغری
مدینے تم نہیں آئے دوبارہ کربلا والو
ارے نہ جانے کتنے دن کرتی رہی ہے دھوپ صحرا کی
تمہارے بے کفن لاشوں پہ سایہ کربلا والو
علی کی بیٹیوں کے ساتھ پتھر تم نے کھائے ہیں
گئے نیزوں پہ جب تم شام و کوفہ کربلا والو
ارے کہیں پانی پلانے پر تکلم کو بھی رکھ لینا
جہاں میں آؤ گے جب تم دوبارہ کربلا والو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.